منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پڑھے لکھے نوجوان بےروزگاری سے تنگ آکر پنکچر کی دکانیں کھولنے لگے

datetime 28  جنوری‬‮  2015 |

کراچی: ملک بھر کی طرح کراچی میںبھی بے روزگاری کا جن قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ان حالات سے نمٹنے کیلیے ناخواندہ نوجوانوں کے ساتھ اب پڑھے لکھے نوجوان بھی مختلف ہنر سے وابستہ ہو رہے ہیں، ان ہی ہنر میں سے ایک گاڑیوں کو پنکچر لگانا ہے، یہ کام20سے 25 ہزار روپے کے سرمائے سے شروع کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کام کا آغاز کرنے والا شخص ایک سال تک کسی ماہر استاد کے پاس پنکچر لگانے کا کام سیکھے، 

 ٹائر پنکچر کے کام سے وابستہ افراد کے حوالے سے ،سروے کے دوران کبوتر چورنگی پر واقع ٹائر پنکچر کی دکان پر کام کرنے والے استاد عبدالصمد نے بتایا کہ حلال روزی کمانا ہر شخص کا حق ہے، اس وقت شہر میں بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے ہر شخص پریشان ہے۔

لوگوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے، اسی مسائل کے باعث پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی اب مختلف ہنر سیکھنے پر مجبور ہو گئی ہے کیونکہ ہنر مند افراد کے لیے روزی کمانا اتنا مشکل نہیں جتنا ایک پڑھے لکھے شخص کے لیے نوکری ڈھونڈنا مشکل ہے، انھوں نے بتایا کہ شہر میں جس طرح گاڑیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اسی طرح پنکچر کی دکانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، شہر میں پنکچر کی دکانیں پٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں تاہم شہر کی تمام اہم شاہراہوں اور فٹ پاتھوں پر بھی کیبن رکھ کر پنکچر لگانے والے اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اندازاً شہر میں 7 سے 8 ہزار تک پنکچر کی دکانیں ہوں گی، انھوں نے بتایا کہ پنکچر لگانے کے کام سے ہر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد وابستہ ہیں تاہم کراچی میں زیادہ تر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد یہ کام کر رہے ہیں، پنکچر کی دکانیں یا کیبن پہلے تو 24 گھنٹے کھلے رہتے تھے لیکن کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافے کے باعث اب70فیصد دکانیں اور کیبن رات کے اوقات میں بند ہو جاتے ہیں،رات کے اوقات میں پنکچر کی دکانیں ایسے مقامات پر کھلی ہوتی ہیں جہاں رونق ہوتی ہے، زیادہ تر دکانیں اہم شاہراہوں اور 24 گھنٹے کھلنے والے پمپس کے ساتھ کھلی ہوتی ہیں۔

پنکچر لگانے کا کام استاد شاگردی کا ہے، شاگرد آتے جاتے ہیں، وہ 6 ماہ یا سال تربیت حاصل کرتے ہیں ، وہ پھر کسی بڑی دکان کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں یا اپنا چھوٹے پیمانے پر یہ کام شروع کر دیتے ہیں، اس کام کو شروع کرنے کے لیے کم سے کم سرمایہ 25 ہزار روپے لگتا ہے اور باعزت طریقے سے ایک شخص12 گھنٹے کام کرکے روزانہ500 سے 600 روپے با آسانی کما لیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…