ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

کاسترو نے چپ توڑ دی

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |
کاسترو

بظاہر لگتا ہے کہ کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو نے کیوبا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے حالیہ فیصلے کی ڈھکے چھپے انداز سے اجازت دے دی ہے۔

ایک خط میں انھوں نے کہا کہ ’میں امریکہ کی پالیسی پر اعتماد نہیں کرتا، نہ ہی میں نے ان کے ساتھ کسی لفظ کا تبادلہ کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس تنازعہ کے پرامن حل کو رد کرتا ہوں۔‘

دہائیوں کی کشیدگی کے بعد دسمبر کو امریکہ اور کیوبا کے تاریخی اقدام کے بعد پہلی مرتبہ کاسترو کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے۔

سرکاری اخبار گرینما میں چھپنے والے خط میں کاسترو نے کہا: ’ہم ہمیشہ دنیا کے سبھی لوگوں کے ساتھ، بشمول ہمارے سیاسی حریفوں کے، تعاون اور دوستی کا دفاع کریں گے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ 88 سالہ رہنما کیوبا کے صدر اور اپنے چھوٹے بھائی راؤل کے فیصلے کی حمایت کر رہے۔ راؤل نے 2008 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’کیوبا کے صدر نے کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کی نیشنل اسمبلی کی طرف سے دیے گئے اختیار کے مطابق مناسب اقدامات اٹھائے ہیں۔‘

ہوانا میں بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ کے مطابق یہ امریکہ اور کیوبا کی مفاہمت کی توثیق تو نہیں ہے لیکن اسے شمال میں بڑے دشمن کے ساتھ سیاسی تعلقات کو رد کرنا بھی نہیں کہا جا سکتا۔

نامہ نگار کے مطابق فیدل کاسترو نے تقریباً اپنی تمام عمر امریکہ کے خلاف جنگ میں گزاری ہے اور اس لیے اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اب کشیدگی کے خاتمے کا بہت محتاط الفاظ میں خیرمقدم نہیں کر رہے۔

لیکن کیوبا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے عرصے سے سرد مہری سے رہنے والے تعلقات میں بہتری کی حالیہ کوششیں اس وقت تک نہیں شروع ہو سکتی تھیں جب تک فیدل کی رضامندی شامل نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…