منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کاسترو نے چپ توڑ دی

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |
کاسترو

بظاہر لگتا ہے کہ کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو نے کیوبا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے حالیہ فیصلے کی ڈھکے چھپے انداز سے اجازت دے دی ہے۔

ایک خط میں انھوں نے کہا کہ ’میں امریکہ کی پالیسی پر اعتماد نہیں کرتا، نہ ہی میں نے ان کے ساتھ کسی لفظ کا تبادلہ کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس تنازعہ کے پرامن حل کو رد کرتا ہوں۔‘

دہائیوں کی کشیدگی کے بعد دسمبر کو امریکہ اور کیوبا کے تاریخی اقدام کے بعد پہلی مرتبہ کاسترو کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے۔

سرکاری اخبار گرینما میں چھپنے والے خط میں کاسترو نے کہا: ’ہم ہمیشہ دنیا کے سبھی لوگوں کے ساتھ، بشمول ہمارے سیاسی حریفوں کے، تعاون اور دوستی کا دفاع کریں گے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ 88 سالہ رہنما کیوبا کے صدر اور اپنے چھوٹے بھائی راؤل کے فیصلے کی حمایت کر رہے۔ راؤل نے 2008 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’کیوبا کے صدر نے کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کی نیشنل اسمبلی کی طرف سے دیے گئے اختیار کے مطابق مناسب اقدامات اٹھائے ہیں۔‘

ہوانا میں بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ کے مطابق یہ امریکہ اور کیوبا کی مفاہمت کی توثیق تو نہیں ہے لیکن اسے شمال میں بڑے دشمن کے ساتھ سیاسی تعلقات کو رد کرنا بھی نہیں کہا جا سکتا۔

نامہ نگار کے مطابق فیدل کاسترو نے تقریباً اپنی تمام عمر امریکہ کے خلاف جنگ میں گزاری ہے اور اس لیے اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اب کشیدگی کے خاتمے کا بہت محتاط الفاظ میں خیرمقدم نہیں کر رہے۔

لیکن کیوبا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے عرصے سے سرد مہری سے رہنے والے تعلقات میں بہتری کی حالیہ کوششیں اس وقت تک نہیں شروع ہو سکتی تھیں جب تک فیدل کی رضامندی شامل نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…