ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایم کیو ایم نے وزیراعلی ہاؤس پر احتجاج نہیں بلکہ حملہ کیا، قائم علی شاہ

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |

کراچی…… سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایوان میں ایم کیو ایم اراکین کے اظہار خیال اور اس پر وزیراعلی سندھ کے رد عمل کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا اور متحدہ قومی موومنٹ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

 ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے اجلاس کے دوران کراچی میں کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف اظہار خیال کیا اور وزیراعلی سندھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی قائم علی شاہ سندھ کے حاکم ہیں اور ان کی حاکمیت میں ہمارے کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، حکومت کو کارکنوں کے قتل کا نوٹس لینا چاہیئے۔

اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کارکنوں کے قتل کے خلاف وزیراعلی ہاؤس کے سامنے کیا جانے والا احتجاج، احتجاج نہیں بلکہ حملہ تھا جس میں پارٹی رہنماؤں سمیت کارکن رکاوٹیں پھلانگ کر گیٹ تک پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا جب کہ شہر میں ہرصورت امن قائم کیا جائے گا، کسی صورت امن و امان خراب کرنے نہیں دیں گے، تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک پہنچائیں گے اس لئے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جس نے بھی جرم کیا اسے نہیں چھوڑیں گے چاہے اس میں میرا عزیز ہی کیوں نہ ہو، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے کارکنوں کے قتل پر بات چیت کے لئے وزیراطلاعات نے ایم کیو ایم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن قمرمنصور نے شرجیل میمن سے بات کرنے سے صاف انکارکردیا۔

دوسری جانب وزیراعلی کے اس بیان پر ایم کیو ایم اراکین اسمبلی سراپا احتجاج بن گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے جب کہ ایوان میں شور شرابے کے باوجود وزیراعلی سید قائم علی شاہ کی تقریر جاری رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…