منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

توانائی بحران ختم کرنے میں مزید 3سال لگ سکتے ہیں، خواجہ آصف

datetime 26  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد…. وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملک سے توانائی بحران ختم کرنے میں مزید  3سال لگ سکتے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ  قوم کو ستمبر 2017 تک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اب سرکاری تنصيبات پر حملے شروع کرديے ہيں، 19ہزار کلو میٹر ٹرانسمیشن لائن کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا، گزشتہ 10 روز ميں بجلی کی تنصيبات پر 3 حملے ہوئے، بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے، امید ہے کہ آج شام تک پورا سسٹم بحال کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقے 6 گھنٹے اور دیہی علاقے 8 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ پر لے آئیں گے جبکہ انڈسٹریل علاقوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی۔

وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ موجودہ حکومت پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت کے غلط فیصلوں کو بھگت اور صحیح فیصلوں پر عمل کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی گزشتہ حکومت نے مختلف اداروں کی نجکاری کے لئے ایک فہرست ترتیب دی تھی۔ موجودہ حکومت نے اس فہرست میں کسی نئے ادارے کو شامل نہیں کیا۔ ملک سے توانائی بحران ختم کرنے میں 3 سال لگ سکتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ  قوم کو ستمبر 2017 تک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل گرڈ سے کے الیکٹرک کو 650 میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، 2011 میں مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ کے الیکٹرک کو 350 میگا واٹ بجلی فراہم کی جائے گی لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف کے الیکٹرک کے حق میں حکم امتناعی دے دیا تھا۔ جس معاہدے کو بنیاد بنا کر حکم امتناع جاری کیا گیا تھا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔ اس لئے کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدے کے لیے نئی شرائط طے ہوئی ہیں، نئے معاہدے میں کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت کو بھی مد نظر رکھا جائے گا تاہم نئے معاہدے تک کے الیکٹرک کی بجلی منقطع نہیں کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…