منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نے قرار دےا 2015 کو الیکشن کا سال

datetime 24  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد…… پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کہتے ہیں کہ وہ افتخار محمد چوہدری کا عدالت میں انتظار کررہے ہیں جہاں وہ بتائیں گے کہ انہوں نے جمہوریت کوکتنا نقصان پہنچایا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیرمین نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی نہیں کی تو اسے ہمارا مسودہ قبول کرلینا چاہیے، مسلم لیگ(ن)کےڈرافٹ کےمطابق جوڈیشل کمیشن کچھ نہیں کرسکےگا۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تیار کردہ جوڈیشل کمیشن کے مسودے عوام کے سامنے لائیں گے۔ اعتزاز احسن این اے 124 میں اتنی دھاندلی سامنے لائے ہیں اتنی تو ان کے اپنے حلقے میں نہیں ہوئی۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہم اپنے مطالبات سے دستبردار ہوگئے ہیں، جس دن ہم نےملک بند کرنے کا فیصلہ کیا مسلم لیگ (ن)حکومت نہیں چلاسکے گی، وہ دعوے سے کہتے ہیں کہ اگر بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابی عذرداریاں وہاں منتقل کردی جائیں تو  یہ سال الیکشن کا سال ہوگا۔ اسمبلیوں میں واپس جانےکاسوال ہی پیدانہیں ہوتا، تحریک انصاف کاکوئی رکن اسمبلی میں گیاتووہ پارٹی سے بےدخل کردیا جائے گا، اگر بااختیار جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ انتخابات جائزہیں توہم اسمبلیوں میں چلےجائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس لیے ڈررہی ہےکہ انھیں پتاہے کہ انھیں ڈیڑھ کروڑ ووٹ نہیں ملے، نگراں حکومت نےآخری تین دنوں میں کئی لاکھ بیلٹ پیپرز چھپوائے، یہ ریٹرننگ افسران کا کمال ہی کا تھا کہ انتخابات میں انہیں اتنے زیادہ ووٹ ملے۔  جوڈیشل کمیشن کے سامنے وہ ثابت کریں گے کہ بہت بڑے بڑے فنکارانتخابی دھاندلی میں ملوث تھے، ریٹرننگ افسران کے پیچھے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے تھے۔ وہ عدالت میں افتخار چوہدری کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں، وہ ثابت کردیں گے کہ سابق چیف جسٹس نے جمہوریت کوکتنا نقصان پہنچایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…