منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آخر کاربھارت کو عقل آ ہی گئی

datetime 23  جنوری‬‮  2015 |

ہریانہ(نیوز ٹوڈے) ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی نے ملک میں لڑکیوں کی کم ہوتی تعداد کی مذمت کرتے ہوئے ’بیٹی بچاو¿ بیٹی پڑھاو¿‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کردیا ہے۔ہندوستان کے میڈیا کے مطابق ہریانہ میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کے دوران مودی کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوس میں اکثر بچیوں کو ان کی ماو¿ں کے پیٹ میں مار دیا جاتا ہے اور ہمیں ان کا درد محسوس نہیں ہوتا ہیں۔ہندوستان کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو قتل کریں۔مودی نے لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دینے کے حوالے سے کہا کہ یہ ’ہمارے ملک کی نفسیاتی بیماری‘ ہے اور ہمیں چاہیے کہ ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں ایک ہزار لڑکیاں پیدا ہوں۔مذکورہ مہم ابتدائی طور پر ملک کے 100 اضلاع میں شروع کی گئی ہے۔’بیٹی بچاو¿ بیٹی پڑھاو¿‘ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی حکومت نے سکنیا سمردھی مہم کا بھی آغاز کیا ہے جس کے ذریعے 10 سال سے کم عمر بچیوں کا بینک اکاﺅنٹ کھولا جاسکے گا اور ان کو اس پر مزید انکم ٹیکس اور منافع کی سہولیات دی جائیں گی۔اس مہم کا آغاز ملک میں بچیوں کی پیدائش میں نمایاں کمی کے بعد کیاگیاہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے ہندوستان میں خطرناک حد تک لڑکیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جس کے بعد مودی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں ’بیٹی بچاو¿ اور بیٹی پڑھاو¿‘ مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمارکے مطابق ہندوستان میں ایک ہزارلڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پیدائش کا تناسب کم سطح پرآگیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 2001 سے2011 کے دوران ملک کے ایک تہائی اضلاع میں بچوں کی پیدائش کا تناسب مزید کم ہوا ہے2011میں شائع ہونے والی بریٹش میڈیکل جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 1980 سے2010 کے دوران ہندوستان میں اسقاط حمل کے ذریعے سے 12 لاکھ لڑکیوں کی پیدائش کوروکا گیا ہے۔واضح رہے کہ ہندوستانی معاشرے میں لڑکیوں کو بوجھ تصور کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے زیادتی، لڑکیوں کو بیچنا اور دیہاتوں میں بیویوں کے اشتراک جیسے جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…