اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات میں بچوں کی پسند اب کھلونے کیوں نہیں ، کلک کر کے رپورٹ پڑھیں

datetime 22  جنوری‬‮  2015 |

شارجہ۔۔۔۔۔متحدہ عرب امارات کی حکومت بیرون ملک سے برآمد کیے گئے جانوروں کی تجارت روکنے کی کوشش کر رہی ہے
متحدہ عرب امارات میں بچوں کو اب جانوروں کے کھلونوں پسند نہیں کرتے ہیں بلکہ اب ان کی جگہ اصل جانور چاہتے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے اصل جانور رکھنا ایک خطرناک رجحان ہے جبکہ ایک کارکن کے مطابق بچے اب کھیلنے کے لیے جانور ہی چاہتے ہیں۔جانوروں کے لیے کام کرنے واکی بین الاقوامی تنظیم ’ آئی ایف اے ڈبلیو‘ کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر السید محمد کے مطابق’ ہمارے علم میں آیا ہے کہ زیادہ مسئلہ بچوں کے ساتھ ہے جو اصل جانور چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی کھیلنا چاہتے ہیں۔‘
ڈاکٹر محمد کے مطابق وہ حیران رہ گئے کہ خاندان جانور فروخت کرنے والے بازاروں میں جا رہے ہیں اور وہاں جو بچے چاہتے ہیں وہ خرید رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہاں رینگنے والے جانوروں سے لے کر بندر تک خریدے جا رہے ہیں جبکہ پالتو جانور 16 ڈالر میں بھی مل جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ خاندانوں میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ جتنے بھی بچوں سے ملے ہیں ان میں سے تقریباً ہر ایک کے پاس پالتو جانور تھا اور ان جانوروں میں شیروں سے لے کر اڑدھے بھی شامل ہیں۔گلف نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت بیرون ملک سے برآمد کیے گئے جانوروں کی تجارت روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں متعدد بین الاقوامی معاہدے کیے گئے ہیں۔دبئی سے متصل شارجہ میں گذشتہ سال نومبر میں حکام نے جانور رکھنے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور اس ضمن میں مالکان کو ایک ماہ تک کا وقت دیا گیا تھا کہ ان کہ گھر میں جو کوئی بھی جانور ہے اسے حکام کے حوالے کر دیا جائے۔
شارجہ میں اس وقت حکام کے حوالے کیے جانے والے جانوروں میں مگر مچھ، چیتے اور تیندوے شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…