منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات میں بچوں کی پسند اب کھلونے کیوں نہیں ، کلک کر کے رپورٹ پڑھیں

datetime 22  جنوری‬‮  2015 |

شارجہ۔۔۔۔۔متحدہ عرب امارات کی حکومت بیرون ملک سے برآمد کیے گئے جانوروں کی تجارت روکنے کی کوشش کر رہی ہے
متحدہ عرب امارات میں بچوں کو اب جانوروں کے کھلونوں پسند نہیں کرتے ہیں بلکہ اب ان کی جگہ اصل جانور چاہتے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے اصل جانور رکھنا ایک خطرناک رجحان ہے جبکہ ایک کارکن کے مطابق بچے اب کھیلنے کے لیے جانور ہی چاہتے ہیں۔جانوروں کے لیے کام کرنے واکی بین الاقوامی تنظیم ’ آئی ایف اے ڈبلیو‘ کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر السید محمد کے مطابق’ ہمارے علم میں آیا ہے کہ زیادہ مسئلہ بچوں کے ساتھ ہے جو اصل جانور چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی کھیلنا چاہتے ہیں۔‘
ڈاکٹر محمد کے مطابق وہ حیران رہ گئے کہ خاندان جانور فروخت کرنے والے بازاروں میں جا رہے ہیں اور وہاں جو بچے چاہتے ہیں وہ خرید رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہاں رینگنے والے جانوروں سے لے کر بندر تک خریدے جا رہے ہیں جبکہ پالتو جانور 16 ڈالر میں بھی مل جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ خاندانوں میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ جتنے بھی بچوں سے ملے ہیں ان میں سے تقریباً ہر ایک کے پاس پالتو جانور تھا اور ان جانوروں میں شیروں سے لے کر اڑدھے بھی شامل ہیں۔گلف نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت بیرون ملک سے برآمد کیے گئے جانوروں کی تجارت روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں متعدد بین الاقوامی معاہدے کیے گئے ہیں۔دبئی سے متصل شارجہ میں گذشتہ سال نومبر میں حکام نے جانور رکھنے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور اس ضمن میں مالکان کو ایک ماہ تک کا وقت دیا گیا تھا کہ ان کہ گھر میں جو کوئی بھی جانور ہے اسے حکام کے حوالے کر دیا جائے۔
شارجہ میں اس وقت حکام کے حوالے کیے جانے والے جانوروں میں مگر مچھ، چیتے اور تیندوے شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…