منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے استعفے منظور

datetime 21  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف کے 4 ارکان سندھ اسمبلی کے استعفیٰ منظور کر لیے گئے ہیں۔
اسپیکر اسمبلی ا غا سراج درانی نے ثمر عباس، خرم شیر زمان، حفیظ الدین اور سیما ضیا کے استعفی منظور کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔سندھ اسمبلی کے اسپیکر ا غا سراج نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے 4 ارکان سندھ اسمبلی کے استعفی منظور کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے 4 ارکان ثمر عباس، خرم شیر زمان، حفیظ الدین اور سیما ضیا تھے۔اغا سراج درانی نے مزید کہا کہ پی ٹی ا?ئی اراکین نے ان کے نوٹس کا جواب نہیں دیا جس پر فیصلہ کیا گیا۔قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں استعفیٰ عدم منظور ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سندھ اسمبلی کے طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ثمر علی خان کی قیادت میں چاروں ارکان نے یکم ستمبر 2014 کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں استعفی جمع کروائے تھے
اس وقت ثمرعلی خان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف بطور احتجاج استعفی دیا ہے۔سید حفیظ الدین نے کہا تھا کہ استعفی دینے پر ان کو کوئی شرمندگی نہیں ہے۔تحریک انصاف کے مستعفی ہونے والے ارکان ثمرعلی خان سندھ اسمبلی کے حلقہ PS۔113، خرم شیرزمان PS۔112، سید حفیظ الدین PS۔93 سے ممبران منتخب ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹر سیما ضیاء PS۔159 سے سندھ اسمبلی کی رکن بنی تھیں۔یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر احتجاجی تحریک شروع کی تھی جس میں انہوں نے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے استعفی دیئے تھے جبکہ سب سے ا خر میں سند اسمبلی میں استعفی جمع کروائے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…