اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

چینی ڈرائیور نے انسانی خدمت کی نئی تاریخ رقم کر ڈالی،کلک کر کے تفصیلات پڑھیں

datetime 21  جنوری‬‮  2015 |

شنگھائی ۔۔۔۔ انسانی ہمدردی اور سخاوت کے ایک حیران کن واقعے میں چین کے ایک شخص نے اپنے سٹیم سیل دور دراز ملک کے ایک اجنبی کو عطیہ کر دیے۔شنگھائی کے ایک ڈرائیور نے سٹیم سیل رجسٹریشن پر خود کو رجسٹر کرواتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کے سٹم سیل کا میچ اتنی جلدی مل جائے گا اور وہ بھی انگلینڈ سے ایک سات سالہ بچے کا۔ڈرائیور جیانگ یونگفینگ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے سٹم سیل عطیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں اس بات کا پتہ چلا تو وہ حیران ہوئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلے پر بھی خوش ہوئے کہ ان کے سٹیم سیل ایک آٹھ سالہ بچے کو ملیں گے۔کینسر یا دیگر خطرناک بیماریوں کے علاج کے لیے سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ضروری ہے کہ عطیہ دینے والے شخص اور مریض کی سیل ایک جیسے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا نسلی پس منظر بھی ایک جیسا ہو۔جیانگ یونگفینگ اور اس بچے کے درمیان یہ ڈونر میچ ایک طبی معجزہ ہے۔جیانگ کا عطیہ وصول کرنے والا چھوٹا لڑکا چینی ورثے کا حامل ہے۔ مسٹر جیانگ نے سٹم سیل سکیم میں شامل ہونے کے لیے اپنے تھوک کا نمونہ دیا جبکہ چین میں اس سکیم میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد عالمی سٹیم سیل کی رجسٹری میں صرف چار فیصد ہے۔چینی ریڈ کراس کے شنگھائی ڈویڑن سے منسلک ڈاکٹر جانگ کا کہنا ہے کہ چین میں رہنے والے کسی شخص اور چین کی سرحدوں کے باہر کسی شخص کے درمیان سٹم سیل میچ غیر معمولی واقعہ ہے۔’امریکہ اور چین میں رہنے والے چینی لوگوں کی تعداد کم ہے اسی لیے زیادہ تر میچ چین کے اندر ہی ہوتے ہیں۔‘ڈاکٹر جانگ کا کہنا تھا کہ شنگھائی ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہوئے انھیں 13700 میں سے صرف 320 ممکنہ ڈونر ملے ہیں۔سٹیم سیلز ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی خلیے کی شکل میں ڈھل سکتے ہیں اور ان کی مدد سے کئی قسم کے امراض کا علاج کیا جا سکتا ہے
مسٹر جیانگ یونگفینگ کا کہنا تھا کہ سٹیم سیل عطیہ کرنے کے دوران انھیں کوئی درد محسوس نہیں ہوا اور یہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہوا۔ بعض صورتوں میں سیٹم سیل حاصل کرنے کے لیے ڈونر کے کولھے کی ہڈی سے گودا نکالنا پڑتا ہے جو خاصا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔مسٹر جونگ کو اس طریقے سے کسی بھی طرح کے برے اثرات کا خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بھی غمگین نہیں ہیں کہ انھیں اس بچے کا نام نہیں معلوم جسے ان کے سیل دیے جائیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس بکھیڑے سے نجات پانا چاہتے ہیں تا کہ ان کے سٹم سیل جلد سے جلد انگلینڈ میں اس چھوٹے بچے کو مل جائیں اور وہ صحت مند ہو جائے اور ایک اچھی زندگی بسر کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…