منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چینی ڈرائیور نے انسانی خدمت کی نئی تاریخ رقم کر ڈالی،کلک کر کے تفصیلات پڑھیں

datetime 21  جنوری‬‮  2015 |

شنگھائی ۔۔۔۔ انسانی ہمدردی اور سخاوت کے ایک حیران کن واقعے میں چین کے ایک شخص نے اپنے سٹیم سیل دور دراز ملک کے ایک اجنبی کو عطیہ کر دیے۔شنگھائی کے ایک ڈرائیور نے سٹیم سیل رجسٹریشن پر خود کو رجسٹر کرواتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کے سٹم سیل کا میچ اتنی جلدی مل جائے گا اور وہ بھی انگلینڈ سے ایک سات سالہ بچے کا۔ڈرائیور جیانگ یونگفینگ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے سٹم سیل عطیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں اس بات کا پتہ چلا تو وہ حیران ہوئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلے پر بھی خوش ہوئے کہ ان کے سٹیم سیل ایک آٹھ سالہ بچے کو ملیں گے۔کینسر یا دیگر خطرناک بیماریوں کے علاج کے لیے سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ضروری ہے کہ عطیہ دینے والے شخص اور مریض کی سیل ایک جیسے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا نسلی پس منظر بھی ایک جیسا ہو۔جیانگ یونگفینگ اور اس بچے کے درمیان یہ ڈونر میچ ایک طبی معجزہ ہے۔جیانگ کا عطیہ وصول کرنے والا چھوٹا لڑکا چینی ورثے کا حامل ہے۔ مسٹر جیانگ نے سٹم سیل سکیم میں شامل ہونے کے لیے اپنے تھوک کا نمونہ دیا جبکہ چین میں اس سکیم میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد عالمی سٹیم سیل کی رجسٹری میں صرف چار فیصد ہے۔چینی ریڈ کراس کے شنگھائی ڈویڑن سے منسلک ڈاکٹر جانگ کا کہنا ہے کہ چین میں رہنے والے کسی شخص اور چین کی سرحدوں کے باہر کسی شخص کے درمیان سٹم سیل میچ غیر معمولی واقعہ ہے۔’امریکہ اور چین میں رہنے والے چینی لوگوں کی تعداد کم ہے اسی لیے زیادہ تر میچ چین کے اندر ہی ہوتے ہیں۔‘ڈاکٹر جانگ کا کہنا تھا کہ شنگھائی ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہوئے انھیں 13700 میں سے صرف 320 ممکنہ ڈونر ملے ہیں۔سٹیم سیلز ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی خلیے کی شکل میں ڈھل سکتے ہیں اور ان کی مدد سے کئی قسم کے امراض کا علاج کیا جا سکتا ہے
مسٹر جیانگ یونگفینگ کا کہنا تھا کہ سٹیم سیل عطیہ کرنے کے دوران انھیں کوئی درد محسوس نہیں ہوا اور یہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہوا۔ بعض صورتوں میں سیٹم سیل حاصل کرنے کے لیے ڈونر کے کولھے کی ہڈی سے گودا نکالنا پڑتا ہے جو خاصا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔مسٹر جونگ کو اس طریقے سے کسی بھی طرح کے برے اثرات کا خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بھی غمگین نہیں ہیں کہ انھیں اس بچے کا نام نہیں معلوم جسے ان کے سیل دیے جائیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس بکھیڑے سے نجات پانا چاہتے ہیں تا کہ ان کے سٹم سیل جلد سے جلد انگلینڈ میں اس چھوٹے بچے کو مل جائیں اور وہ صحت مند ہو جائے اور ایک اچھی زندگی بسر کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…