منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیرنے پاکستان سمیت مسلم دنیا میں عدم استحکام کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیدیا

datetime 20  جنوری‬‮  2015 |

اسلام ا باد۔۔۔۔۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی امور ریاض حسین پیرزادہ نے پاکستان سمیت مسلم دنیا میں عدم استحکام کی ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال دی ہے۔ریاض حسین پیرزادہ کے مطابق مسلم دنیا کے ممالک میں اپنے نظریئے کے فروغ کے لیے رقم کی تقسیم سے یہ عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔اسلام اباد میں جناح انسٹیٹیوٹ نامی تھنک ٹینک کی کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ا گیا ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان پیسوں کی امد کا سلسلہ بند کرنے کا وقت ا گیا ہے۔فوجی عدالتوں کے قیام پر بھی وفاقی وزیر نے اپنی ہی حکومت کو ہدف تنقید رکھا۔ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ازاد عدلیہ کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کا قیام کمزور اور خوف زدہ قیادت کی نشاندہی کرتی ہے۔وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ایسی بزدل قیادت کو کوئی حق نہیں کہ وہ حکومت میں رہے‘‘۔
قبل ازیں دو روزہ کانفرنس کے اغاز پر جناح انسٹیٹیوٹ کی سربراہ شیری رحمن کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں ایک بہتر اور مستحکم پاکستان کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ کیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ حکومت عام ادمی کے مسائل کا حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔فوجی عدالتوں کے قیام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما افرسیاب خٹک نے کہا کہ جمہوری قوتوں کو 21ویں ائینی ترمیم کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار نے فوجی عدالتوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کا اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…