منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی حکومت نے پاکستان کو کیا وارننگ دی کلک کر کے جانیں

datetime 20  جنوری‬‮  2015 |

نئی دہلی ۔۔۔۔۔دہلی میں اس وقت صرف دو ہی باتوں کا ذکر ہے، ریاستی اسمبلی کے انتخابات اور امریکی صدر براک اوباما کے دورے کے لیے کیے جانے والے انتظامات۔براک اوباما کی سکیورٹی کے لیے تیاریاں اپنے عروج کو پہنچ رہی ہیں۔ سنا ہے کہ انہیں محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سات گھیرے یا رِنگ ہوں گے۔ جیسے جیسے ان گھیروں کا دائرہ تنگ ہوتا جائے گا، ان کی ذمہ داری امریکی اہلکار سنبھالتے جائیں گے۔لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، صدر اوباما جب بھی سفر کرتے ہیں تو ان کے لمبے قافلے میں ان کے باورچی سے لے کر ان کی بلٹ پروف گاڑیاں اور سینکڑوں سکیورٹی اہلکار شامل رہتے ہیں۔اگر انہیں اپنے آرام اور اپنی سکیورٹی کی فکر ہے تو یہ اچھی ہی بات ہے، اگر وسائل ہیں تو انہیں کیوں نہ استعمال کیا جائے؟
لیکن ہندوستانی اخبارات میں ایک حیرت انگیز خبر بھی چھپی ہے اور وہ یہ کہ امریکی حکومت نے پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ جب تک صدر اوباما ہندوستان میں رہیں گے، وہاں سرحد پار سے کوئی دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے! ورنہ اس کے سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں!
صدر صاحب، علاقیمیں آپ کی اتنی ہی چلتی ہے تو یہ ٹائم ٹیبل جاری کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر آپ کیمیزبان آپ کے آنے سے پہلے اور جانے کیبعد بھی محفوظ رہیں تو اس میں آپ کا کیا نقصان ہے؟

دنیا کا سب سے حسین چہرہ
آپ غلط سمجھے، دنیا کا سب سے حسین چہرہ صدر اوباما کا نہیں ان کے نئے بیسٹ فرینڈ نریندر مودی کا ہے!
یہ خطاب انہیں صدر اوباما نے نہیں، ہندوستان کی پہلی خاتون پولیس افسر کرن بیدی نے دیا ہے جو اب بی جے پی میں شامل ہوگئی ہیں اور پارٹی نے انہیں وزیر اعلی کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔کرن بیدی اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال پہلے دونوں ہی انا ہزارے کے ساتھ تھے۔ ان کے بی جے پی میں شامل ہونے پر کیجریوال نے کہا کہ پارٹی کو ایک’چہرے‘ کی ضرورت تھی اس لیے کرن بیدی کو پارٹی میں شامل کیا گیا ہے۔کرن بیدی کا جواب ہے کہ ’بی جے پی کے پاس دنیا کا سب سے حسین چہرہ ہے، وہ ہیں نریندر مودی، ہم تو صرف ستارے ہیں جو ان کے ارد گرد چکر کاٹ رہے ہیں۔‘ہم تو کرن بیدی کو صرف یہ ہی مشورہ دیں گے کہ ایک مرتبہ پھر سوچ لیجیے، لگتا ہے کہ تھوڑا زیادہ ہی ہوگیا۔
اروند کیجریوال نے نئی دہلی میں 49 دن وزیرِ اعلیٰ رہنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا
پانچ سال کیجریوال، لیکن کیوں؟
اروندی کیجریوال کا دعوی ہے کہ جب وہ دو مہینے کے لیے وزیر اعلی بنے تھے، تو انہوں نے مہنگائی اور بدعنوانی ختم کردی تھی اور پچاس دنوں میں ان کی حکومت نے اتنا کام کر دکھایا تھا کہ سابقہ حکومتیں اپنے پورے دور اقتدار میں نہیں کر پائی تھیں۔اس مرتبہ وہ ووٹروں سیکہہ رہے ہیں کہ انہیں پورے پانچ سال کے لیے وزیر اعلی بنائیں۔ لیکن وہ جس رفتار سے کام کرتے ہیں، لگتا ہے کہ سارے کام دو تین مہینوں میں ہی پورے ہوجائیں گے، پھر وہ باقی وقت کیا کریں گے؟
وہ لوگوں کو یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ وہ کانگریس اور بی جے پی سے ووٹ دینے کے لیے پیسہ لے لیں لیکن ووٹ عام آدمی پارٹی کو ہی دیں!
کیجریوال صاحب، آپ کے لیے بھی تھوڑا مشورہ ہے، بدعنوانی تو آپ نے اپنے مختصر دور اقتدار میں ختم کردی تھی، اب دہلی میں کوئی بے ایمان نہیں ہے، لوگ اگر آپ کے مشورے پر بی جے پی اور کانگریس سے پیسہ لیں گے تو پھر ووٹ بھی انہیں کو دیں گے۔
آخر زبان بھی کوئی چیز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…