منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اراکین پارلیمنٹ کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جانے کی نوبت کیوں پیش آئی۔کلک کر کے جانئے

datetime 20  جنوری‬‮  2015 |

اسلام ا باد۔۔۔۔۔ سینیٹ قواعد و ضوابط اور استحقاق کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے ملکی اہم شخصیات سمیت اراکین پارلیمنٹ کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔
طاہر حسین مشہدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کے اجلاس کے دوران سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کوآگاہ کیاکہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے ان سمیت دیگر پارلیمنٹرینز کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کمیٹی کو ایک لیٹر بطور ثبوت پیش کیا جس میں ان کے فون کو ٹیپ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ رکن کمیٹی اسلام الدین شیخ نے کہا کہ سیاستدانوں کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں، کئی بار میں نے فون پر پیغام دیا ہے کہ ہم نہ ہی انڈین ہیں اور نہ ہی ایجنٹ ، ہمارے فون کیوں ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو ا فتاب سلطان نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے فون کو ٹیپ کرنے کے حوالے سے انھیں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں، یہ لیٹر جعلی ہے اس کی انکوائری کی جائے گی، وزیراعظم سمیت سابق وزرائے اعظم نے کبھی کسی کا فون ٹیپ کرنے کے احکام نہیں دیے،البتہ کسی کا فون ٹیپ کرنا ہو تو مجھ سے منظوری حاصل کی جاتی ہے اور مجھے علم ہوتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کسی پارلیمنٹیرین اور صحافی کا ا?ج تک کبھی فون ٹیپ نہیں کیا گیا، ا?ئی بی ٹیلی فون ٹیپ نہیں کر رہی، کسی اورکے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، ا?فتاب سلطان نے بتایا ہے کہ 98 فیصد سے زیادہ دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں، بعض سفارت خانوں کے ٹیلی فونزکو ٹیپ کرنا پڑتا ہے لیکن یہ بھی بعض ناگزیر حالات میں ہی کرنا پڑتا ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…