منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کی ڈبل شاہ ماں بیٹی کی ہوش رباء کہانی ،تفصیلات کیلئے کلک کریں

datetime 19  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔پولیس نے رقم ڈبل کرنے کا جھانسہ دیکر لوٹ مار کرنیوالی ماں بیٹی کے خلاف 10 سے زائد مقدمات جنھیں اے کلاس قراردیا گیا تھا کے چالان جمع کرا دیے۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے 10 سے زائد تھانوں کی حدود میں گھروں میں گھس کر لوٹ مار کرنے والی رشیدہ اوراس کی بیٹی صغراں بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تحقیقات مکمل کرکے چالان عدالتوں میں جمع کردیے جنھیں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔ضلع غربی کی عدالت کے پبلک پراسیکیوٹر سید شمیم احمد نے عدالت کو بتایا رشیدہ اور صغراں نے 2 ماہ کے دوران کراچی کے 10 سے زائد تھانوں کی حدود میں وارداتیں کیں دونوں خواتین گھروں میں گھس کرخواتین کورقم اور طلائی زیورات ڈبل کرنے کا جھانسہ دیتی اور پھر طلائی زیورات اور نقد رقم لوٹ کر فرار ہوجاتی تھیں۔ماں بیٹی نے عارف کے گھر میں داخل ہوکر بتایا کہ وہ ٹیوشن پڑھاتی ہیں جب انھیں منع کیا گیا نوسرباز خواتین نے اہل خانہ کو ان کے رشتے داروں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ منگھوپیر کے علاقے سے ا?ئی ہیں اور دعا کرنا چاہتی ہیں جس کے بعد انھوں نے دھاگا منگوایا اس کے ٹکرے کیے اور شبدے بازی کرتے ہوئے اسے جوڑدیا پھر گھر میں رکھی رقم اور زیورات کو ڈبل کرنے کا جھانسہ دیکر تمام رقم لوٹ لی اور فرار ہوگئیں۔وکیل سرکار نے انکشاف کیا کہ دونوں کے خلاف رضویہ سوسائٹی، عزیز بھٹی، گلستان جوہر، شارع فیصل، اورنگی ٹاؤں، گزری، مبینہ ٹاؤن، سمیت دیگر تھانوں میں محمد صادق، افتخار احمد، عبدالطیف، محمد سجاد، محمد مجید، جاوید عباس، شیخ تنویر، ہاشم علی و دیگر شہریوں کی مدعیت میں مقدمات درج ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…