منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

الطاف حسین نے وزیر اعظم سے سندھ میں مارشل لا لگانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ میں امن وامان کے قیام کے لیے مارشل لا لگانے کا اعلان کریں اور وہ اس سلسلے میں صدر مملکت سے باقاعدہ درخواست کریں کیوں کہ دہشت گرد معصوم شہریوں کو ہر روز قتل کررہے ہیں اور ملک کو 70 فیصد ریونیو فراہم کرنے والے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
لندن سے جاری بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ ایک طرف فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے تو دوسری جانب دہشت گرد نہتے اور معصوم شہریوں کو قتل کررہے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں امن وامان کی صورتحال اسی وقت بہتر ہوسکتی ہے جب وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ فوری مستعفی ہوں اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔
الطاف حسین کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز کے پاس اتنی تعداد نہیں ہے کہ ہر گلے اور محلے میں تعینات کیا جاسکے، ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہر ممکن تعاون کررہے ہیں لیکن کیا رینجرز ہر گلی میں 10,10 اہلکار کھڑے کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اپنی حفاظت کے لیے ہر گلی اور محلے کی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور راستوں پر حفاظتی بیریئر لگائے جائیں کیونکہ سندھ حکومت امن کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ اگر سندھ میں مارشل لا نافذ نہیں کیا جاتا تو پھر شہریوں کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ لائسنس فراہم کیے جائیں، شہر میں ہلاکتوں کے لئے جواب دینے کے لیے کوئی نہیں، ایک طرف ا?پریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے تو دوسری طرف دہشت گردوں کے ہاتھوں کراچی بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…