منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ساہیوال کے طلبہ اور اساتذہ نے ایک عظیم کارنامہ سر انجام دے دیا

datetime 17  جنوری‬‮  2015 |

ساہیوال: پنجاب کے شہر ساہیوال کے طلبہ اور اساتذہ 5 ماہ کی محنت کے بعد ماحول دوست کار بنانے میں کامیاب ہو ئے۔

نیلے رنگ کی ایک سیٹ والی کار کی تیاری میں 3 لاکھ 50 ہزار روپے کے اخراجات آئے۔

ماحول دوست اس سواری کی تیاری میں ساہیوال کی کامسیٹس یونیورسٹی کے میکینیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے طلبہ اور اساتذہ نے مشترکہ طور پر کام کیا۔

مذکورہ کار فلبائن کے شہر منیلا میں ہونے والے ’منیلا انٹرنیشنل آٹو شو 2015‘ میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھی بھیجی جائے گی۔

میکینیکل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء الدین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ کار کی تیار سال آخر کے طلبہ کا پروجیکٹ تھا۔

انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کا ہدف کم قیمت متعدد خصوصیات کی کار تیار کرنا تھا۔

ڈاکٹر ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ کار ’رش‘ بنانے والے 8 طلبہ کے گروپ کی سربراہی ان کے استاد طاہر آصف کر رہے تھے۔

کار بنانے والی ٹیم نے اس میں 70 سی سی کا انجن استعمال کیا ہے جبکہ اس کی باڈی ہلکے فائبر گلاس سے بنائی گئی ہے۔

کار کے ڈئزائنر طاہر آصف کا کہنا تھا کہ ’رش‘ کی 9 فٹ لمبی، 4فٹ اونچی اور 4 فٹ ہی چوڑی ہے جبکہ یہ ایک لیٹر پٹرول میں 60 کلومیٹر کا راستہ طے کر سکتی ہے۔

اس وقت کار کا وزن 200 کلو گرام ہے جس میں ایک شخص کے بیٹھنے کی گنجائش ہے البتہ اس کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

کراچی سے خصوصی طور پر ساہیوال آنے والی شیل پاکستان کی ترجمان افشین کا کہنا تھا کہ کار کی تیاری کے دوران گزشتہ 5 ماہ سے ہم تمام مراحل دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’رش‘ بنانے والی پوری ٹیم کو منیلا آٹو شو میں بھیجا جائے گا جبکہ یہ کار ان 14 گاڑیوں میں شامل ہو گی جن کو اسپانسر کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…