منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملا فضل اللہ کو ،خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیدیا گیا

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔امریکہ نے تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔پاکستان کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں مقیم ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملا فضل اللہ کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے۔بیان کے مطابق یہ درجہ دیے جانے کے بعد ملا فضل اللہ کے وہ تمام اثاثے جو امریکی دائرہ کار میں آتے ہیں منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہریوں پر ملا فضل اللہ سے کسی بھی ایسے لین دین کرنے پر پابندی ہوگی۔پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت متعدد بار افغانستان کی حکومت سے پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔
امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو بھی عالمی دہشتگرد قرار دیا تھا جس کے بعد انھیں ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔امریکہ کی طرف سے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کا فیصلہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان کے بعد کیا گیا ہے۔ملا فضل اللہ کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں سکول کے 132 بچوں سمیت 148 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ملا فضل اللہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے کو قتل کروانے کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں اور انھی کے حکم پر نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ کیاگیا تھا۔ملا فضل اللہ کے گروپ نے دیر میں پاکستان فوج کے میجر جنرل ثنا اللہ نیازی کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…