اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملا فضل اللہ کو ،خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیدیا گیا

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔امریکہ نے تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔پاکستان کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں مقیم ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملا فضل اللہ کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے۔بیان کے مطابق یہ درجہ دیے جانے کے بعد ملا فضل اللہ کے وہ تمام اثاثے جو امریکی دائرہ کار میں آتے ہیں منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہریوں پر ملا فضل اللہ سے کسی بھی ایسے لین دین کرنے پر پابندی ہوگی۔پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت متعدد بار افغانستان کی حکومت سے پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔
امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو بھی عالمی دہشتگرد قرار دیا تھا جس کے بعد انھیں ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔امریکہ کی طرف سے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کا فیصلہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان کے بعد کیا گیا ہے۔ملا فضل اللہ کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں سکول کے 132 بچوں سمیت 148 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ملا فضل اللہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے کو قتل کروانے کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں اور انھی کے حکم پر نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ کیاگیا تھا۔ملا فضل اللہ کے گروپ نے دیر میں پاکستان فوج کے میجر جنرل ثنا اللہ نیازی کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…