منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو پھر اپنی نیند پوری کریں

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے۔
12 ماہ سے کم عمر بچوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر بچے نئے کام کرنے کے بعد لمبی نیند نہ سوئیں تو وہ ان کاموں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کوئی نئی چیز سیکھنے کا بہترین وقت سونے سے تھوڑی دیر پہلے ہوتا ہے اور انھوں نے رات کے وقت پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔نیند اور یادداشت کے درمیان تعلق ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند عمر کے ابتدائی برسوں میں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔بچے بڑوں کے مقابلے پر زیادہ سوتے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے کہا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں۔سائنس دانوں نے چھ سے 12 ماہ کے بچوں کو ہاتھوں پر پہننے والے پتلوں کی مدد سے کچھ کھیل سکھائے۔ یہ سیکھنے کے بعد آدھے بچے چار گھنٹوں کے اندر اندر سوئے جب کہ دوسرے نصف یا تو سوئے ہی نہیں یا پھر آدھے گھنٹے سے کم وقت کے لیے سوئے۔اگلے دن بچوں سے کہا گیا کہ وہ پچھلے دن سیکھا گیا کھیل دہرائیں۔ اس تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گہری نیند سونا سیکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔جو بچے جو خاصی دیر سوئے تھے، وہ ڈیڑھ کھیل دہرانے کے اہل تھے۔ اس کے مقابلے پر جو بچے سیکھنے کے بعد نہیں سوئے، یا کم دیر کے لیے سوئے، وہ سب کچھ بھول گئے تھے۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر جین ہربرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو بچے سیکھنے کے بعد سو گئے تھے، انھوں نے کھیل اچھی طرح سیکھ لیا، لیکن جو نہیں سوئے، وہ بالکل نہیں سیکھ سکے۔‘انھوں نے کہا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سیکھنے کے پوری طرح جاگا ہوا ہونا ضروری ہے، لیکن اس کی بجائے ’سونے سے قبل کے حالات سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سیکھنے کے پوری طرح جاگا ہوا ہونا ضروری ہے، لیکن اس کی بجائے ’سونے سے قبل کے حالات سب سے زیادہ اہم ہیں۔ڈاکٹر جین ہربرٹ
اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ سونے سے پہلے کتابیں پڑھنا اور انھیں پڑھ کر سنانا کس قدر اہم ہے۔گذشتہ برس ایک تحقیق میں نیند کے دوران یادداشت کے مکینزم پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیند کے دوران دماغی خلیوں کے درمیان نئی کڑیاں تشکیل پاتی ہیں۔یونیورسٹی آف سرے کے نیند کے ماہر پروفیسر ڈیرک جان جک نے چھوٹے بچوں کو زیادہ سونا چاہیے، تاہم ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ تربیت کے دوران ہی اونگھا جائے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…