اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سات مزید قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

datetime 13  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔پشاور کے آرمی پبلک سکول پر گذشتہ ماہ 16 دسمبر کو شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملک کی چار مختلف جیلوں میں سزائے موت کے سات قیدیوں کو منگل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔
منگل کو سکھر میں تین، فیصل آباد میں دو جبکہ راولپنڈی اور کراچی میں ایک ایک مجرم کو پھانسی دی گئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق سکھر کی سینٹرل ون جیل میں منگل کی صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب تین مجرموں کو پھانسی دی گئی۔اس جیل میں پھانسی پانے والوں میں محمد طلحہ، خلیل احمد اور شاہد حنیف ہیں۔ان تینوں شدت پسندوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا۔انھوں نے سنہ 2001 میں وزارتِ دفاع کے ایک افسر کو قتل کیا تھا جس کی پاداش میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے انھیں سنہ 2003 میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے منتظر شدت پسند ذوالفقار علی کو پھانسی دی گئی۔ذوالفقار علی سنہ 2003 میں امریکی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔انھیں سنہ 2004 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔کراچی سینٹرل جیل میں قتل کے مجرم بہرام خان کو بھی منگل کی صبح پھانسی دی گئی۔بہرام خان نے سنہ 2003 میں ایک وکیل کو قتل کیا تھا۔فیصل آباد میں دو شدت پسندوں نوازش علی اور مشتاق احمد کو سزائے موت دی گئی، ان دونوں پر دہشت گردی کا الزام تھا۔مشتاق احمد پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ہونے والے پہلے حملے میں ملوث تھے۔خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…