اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغانستان سے ہونے والے حملوں میں انڈیا ملوث ہونے کا انکشاف

datetime 12  جنوری‬‮  2015 |

اسلام ا باد ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں میں ہندوستان ملوث ہے۔تاہم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے نئی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرکے اس بات کو ممکن بنانے کی کوشش کی ہے کہ دونوں ملک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ڈان نیوز کے پروگرام فیصلہ عوام کا میں گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار میں ا?نے کے بعد یہ شرط رکھی ہے کہ اگر پاکستان ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کشمیر کو بھول جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا کی اس شرط کو قبول کرنے سے پوری طرح سے انکار کیا ہے۔پاک۔انڈیا سرحدی کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مودی کا ایجڈا کافی اوپن ہے کہ مذاکرات صرف ہندوستان کی شرائط پر ہوسکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے قبول کرنا ناممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھی چاہتا ہے کہ وہ ہر سطح پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرے، کیونکہ یہ پورے خطے کی خواہش ہے۔انہوں نے کہا حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک وڑن بنایا تھا جس کے تحت قومی سیکیورٹی کی حفاظت ایک اولین ترجیحی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے خطے میں پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں جو بھی پالیسی مرتب کیں، ان کا ملکی سیکیورٹی پر کوئی اچھا اثر نہیں ہوا ہے۔مشیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم پڑوسی ملکوں کے ساتھ ایک مثبت طریقے سے ساتھ چل سکیں۔شدت پسندی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی بہت ہی واضح ہے کہ ہم کسی بھی اچھے یا برے طالبان میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتے اور سب کے ساتھ اب ایک ہی طرح کی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا 16 دسمبر کو پشاور کے ا رمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد اب دہشت گردی کے مسئلے پر نا صرف سول، بلکہ فوجی قیادت بھی ایک میز پر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو شدت پسند افغانستان کی سزمین پر موجود ہیں ان کے خلاف وہاں کی افواج کارروائی کرے گی۔مشیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا دونوں ملکوں کی پالیسوں میں اہم تبدیلی ہوئی ہے اور اب ہماری کوشش ہے کہ سرحد پر دہشت گردی کی نقلِ حمل کو ناصرف روکا جائے، بلکہ ان پر نظر بھی رکھی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…