منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان سے ہونے والے حملوں میں انڈیا ملوث ہونے کا انکشاف

datetime 12  جنوری‬‮  2015 |

اسلام ا باد ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں میں ہندوستان ملوث ہے۔تاہم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے نئی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرکے اس بات کو ممکن بنانے کی کوشش کی ہے کہ دونوں ملک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ڈان نیوز کے پروگرام فیصلہ عوام کا میں گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار میں ا?نے کے بعد یہ شرط رکھی ہے کہ اگر پاکستان ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کشمیر کو بھول جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا کی اس شرط کو قبول کرنے سے پوری طرح سے انکار کیا ہے۔پاک۔انڈیا سرحدی کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مودی کا ایجڈا کافی اوپن ہے کہ مذاکرات صرف ہندوستان کی شرائط پر ہوسکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے قبول کرنا ناممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھی چاہتا ہے کہ وہ ہر سطح پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرے، کیونکہ یہ پورے خطے کی خواہش ہے۔انہوں نے کہا حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک وڑن بنایا تھا جس کے تحت قومی سیکیورٹی کی حفاظت ایک اولین ترجیحی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے خطے میں پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں جو بھی پالیسی مرتب کیں، ان کا ملکی سیکیورٹی پر کوئی اچھا اثر نہیں ہوا ہے۔مشیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم پڑوسی ملکوں کے ساتھ ایک مثبت طریقے سے ساتھ چل سکیں۔شدت پسندی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی بہت ہی واضح ہے کہ ہم کسی بھی اچھے یا برے طالبان میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتے اور سب کے ساتھ اب ایک ہی طرح کی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا 16 دسمبر کو پشاور کے ا رمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد اب دہشت گردی کے مسئلے پر نا صرف سول، بلکہ فوجی قیادت بھی ایک میز پر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو شدت پسند افغانستان کی سزمین پر موجود ہیں ان کے خلاف وہاں کی افواج کارروائی کرے گی۔مشیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا دونوں ملکوں کی پالیسوں میں اہم تبدیلی ہوئی ہے اور اب ہماری کوشش ہے کہ سرحد پر دہشت گردی کی نقلِ حمل کو ناصرف روکا جائے، بلکہ ان پر نظر بھی رکھی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…