منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امداد چاہئے توپاکستان پر سنگین شرائط رکھنے کی باتیں، مگر کیوں؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 11  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد ۔۔۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو اربوں ڈالر امداد دیتے ہیں یہ شرط عائد کریں کہ اس ملک کا امراء4 طبقہ اور حکمران اشرافیہ ٹیکس ضرور اداکریں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ ہر سال پاکستان کو ایک ارب دالر کی امداد دے رہا ہے ۔ امریکی امدادکی پاکستان کو فراہمی پر بھارت بھی سخت ناراضگی کا اظہار کررہا ہے ۔ امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اس ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والے ہین اور وہ پاکستان کو 532 ملین ڈالر کی امداد جلد ادا کرنے کی یقین دہانی کرائیں گے ۔ پاکستان کو دی جانے والی فوجی امدادکا مقصد پاکستان میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ساتھ لڑنے کیلئے ہے ۔ تنقید کے باوجود یہ امریکہ کے مفاد میں ہے کہ وہ پاکستان کی امداد کو جاری رکھیں۔ اخبار نے اپنے اداریہ میں مزید لکھا ہے کہ امریکہ یہ شراط بھی عائد کر سکتا ہے کہ پاکستان اپنے نیوکلیائی پروگرام پر کم خرچ کرے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے پاکستان نے امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دے دی ہے تاہم دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کو مزید موثر اقدامات بھی کرنا ہوں گے ۔ اخبار آگے چل کر لکھتا ہے کہ نواز شریف حکومت اگرچہ انتہائی کمزور حکومت ہے لیکن ایک سویلین حکومت نے کے باعث ملک میں موجود ہے اور یہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اقتدار ایک سول حکومت سے کسی سول حکومت کو منتقل ہوا جیسا کہ 2013 ء4 کو ہوا تھا۔ اخبار نے امریکی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکی امداد کو پاکستان میں مواصلات کا نظام بہتر کرنے ‘ توانائی کے منصوبے ‘ چھ سو میل نئی سڑکوں کا قیام اور ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام پر خرچ کرنے کو ہر حال میں یقینی بنائے ۔ اخبار یہ بھی لکھتا ہے کہ پاکستان کو امداد معطل کرنا امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہے تاہم اس میں آہستہ آہستہ کمی کرنا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…