منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا کی صحافت کا ایک روشن ستارہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا

datetime 9  جنوری‬‮  2015 |

لاہور۔۔۔۔پاکستان کے خیبر پختونخوا کے سینئیر صحافی اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شیخ سلیم اللہ انتقال کر گئے ہیں۔صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعرات کو انھوں نے وفات پائی۔ ان کا شمار نڈر اخبار نویسوں میں ہوتا تھا۔شیخ سلیم اللہ نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز اپنے والد شیخ ثناء4 اللہ کے انگریزی اخبار ’خیبر میل‘ سے کیا جو اس صوبے کا پہلا انگریزی روزنامہ بھی تھا۔انھوں نے ’سب ایڈیٹر‘ کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا اور بعد میں ترقی کرتے ہوئے ’نیوز ایڈیٹر‘ کے عہدے تک جا پہنچے۔
ان کا صحافتی کیریئر تقریباً 40 سال پر محیط رہا اور اس دوران وہ مختلف اخبارات کے ساتھ منسلک رہے۔
شیخ سلیم اللہ اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’پاکستان ابزرور‘ پشاور بیورو کے ساتھ بھی مختصر عرصہ تک مسنلک رہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ پشاور سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار ’دی فرنٹیر سٹار‘ کے مدیر بھی رہے۔شیخ سلیم اللہ صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کارکن صحافیوں کے حقوق کیحوالے سے بھی خاصے سرگرم رہے۔وہ ایسے وقت میں پشاور کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم خیبر یونین جرنلسٹس کے صدر تھے جب ملک میں مارشل لا کا دور تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے صحافیوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔شیخ سلیم اللہ پشاور پریس کلب کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان اس صوبے میں انگریزی صحافت کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک شفیق استاد کے طور پر بھی شہرت رکھتے تھے۔پشاور کے سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ’دی فرنٹیر سٹار‘ کے چیف ایڈیٹر حافظ ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ شیخ سلیم بے باک صحافی تھے جنھوں نے ساری زندگی صحافت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
ادھر ملک بھر سے صحافیوں نے شیخ سلیم اللہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ شیخ سلیم اللہ ان کے پہلے استاد تھے جنھوں نے انھیں پروف ریڈنگ سکھائی۔شیخ سلیم اللہ چند سال پہلے پشاور چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ انھوں نے اپنے پیچھے بیوہ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…