اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سری لنکا کے صدرمہندا راجہ پکشے صدارتی انتخابات ہار گئے

datetime 9  جنوری‬‮  2015 |

کولمبو۔۔۔۔سری لنکا میں تقریباً دس سال سے اقتدار میں رہنے والے صدر مہندا راجہ پکشے کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔
بیان کے مطابق راجہ پکشے ’عوام کی خواہشات کے سامنے جھکتے ہوئے اقتدار کی پرامن منتقلی کو یقینی بنائیں گے۔‘خیال رہے کہ سری لنکا کے صدر سنہ 2009 میں ختم ہونے والے خانہ جنگی کے بعد تیسری بار صدارت کے امیدوار تھے۔سری لنکا کے صدر راجہ پکشے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے حزبِ مخالف رہنما کے ساتھ ملاقات میں اپنی ’شکست تسلیم‘ کر لی ہے اور ملک کے نئے صدر آج جمعے کی شام کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ راجہ پکشے پہلے ہی سرکاری رہائش چھوڑ کر جا چکے ہیں۔سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اعظم عظیم کا کہنا ہے کہ صدر راجا پکشے کی جانب سے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرنے کے بعد آتش بازی کی گئی۔
راجہ پکشے سری لنکا کی سیاست میں ایک دہائی سے سرگرم تھے تاہم اس بار انھیں اپنے وزیرِ صحت میتھرئی پالا سریسینا کی جانب سے غیر متوقع چیلنج کا سامنا تھا۔سری لنکا کے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج جمعے کی شام سے پہلے مکمل نہیں ہوں گے تاہم ابتدائی نتائج کے مطابق میتھرئی پالا سریسینا کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے قریب ہیں۔راجہ پکشے اور میتھرئی پالا سریسینا گذشتہ سال نومبر تک ایک دوسرے کے اتحادی تھے تاہم سریسینا نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا۔راجہ پکشے اور میتھرئی پالا سریسینا گذشتہ سال نومبر تک ایک دوسرے کے اتحادی تھے
سابق وزیر صحت میتھرئی پالا سریسینا کو زیادہ تر ووٹ اقلیتی برادریوں سے ملے جن میں راجہ پکشے انتہائی غیرمقبول ہیں۔تاہم سریسینا کواکثریتی سنہالی برادری کی حمایت درکار ہو گی جو ماضی میں راجہ پکشے کی حامی رہی ہے۔
سری لنکا کے تمل علاقوں میں ووٹنگ کی شرح 70 فیصد کے قریب رہی اور اس سارے عمل کے دروان کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔سری لنکا میں اس سے پہلے صدارتی انتخابات سے پہلے تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے تھے لیکن اس بار صورتحال مختلف رہی اور ہلاکت کا کوئی بھی واقعہ سامنے نہیں آیا۔سری لنکا کے سبکدوش ہونے والے صدر راجہ پکشے نے آخری بار سال 2010 میں فوج کے سابق سربراہ سارتھ فونیسکا کو شکست دی تھی۔سارتھ فونیسکا اس وقت جنگی جرائم کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…