’لندن۔۔۔۔ماہر فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ستاروں کی گردش کی رفتار سے اس کی عمر کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں۔ابھی تک یہ تو معلوم تھا کہ ستاروں کی گردش کی رفتار میں وقت کے ساتھ کمی واقع ہوتی ہے لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس اعداد و شمار نہیں تھے۔پہلی بار ماہر فلکیات کی ایک امریکی ٹیم نے ایک ارب سال پرانے ستاروں کی گردش کی رفتار کو ناپا ہے اور ان کا ستاروں کی عمر کا اندازہ اس سے مطابقت رکھتا ہے۔اس دریافت نے ایک زمانے سے چلے آنے والے اس معاملے کو حل کر دیا ہے اور اب ماہر فلکیات 10 فی صد کم و بیش کے ساتھ کسی ستارے کی صحیح عمر بتا سکتے ہیں۔اس تحقیق کا انکشاف امریکی ماہر فلکیات کی تنظیم کے سیئیٹل میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا اور یہ تحقیق ’نیچر‘ نامی سائنسی جریدے میں بھی شائع ہو چکی ہے۔اجرام فلکی کے علم میں ستاروں اور تاروں کی عمر کا تعین اہم مسئلہ ہے۔
جوان ستاروں میں دھبہ بڑا اور واضح ہوتا ہے اس لیے اس کی رفتار کا معلوم کرنا قدرے آسان ہے
یہ طریقہ کار ’کْول سٹارز‘ یعنی ٹھنڈے ستاروں یا سورج کے حجم یا ان سے چھوٹے ستاروں پر قابل عمل ہے۔ ہماری کہکشاں میں اس سائز کے ستارے عام ہیں اور بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور یہ زیادہ دن تک قائم رہتے ہیں۔اس تحقیق کے سربراہ ہارورڈ سمتھسونین ایسٹروفزکس شعبے کے ڈاکٹر سورین میبم نے بتایا ’یہ ستارے لیمپ پوسٹ کی طرح ہیں جو ہماری کہکشاں کے قدیم ترین حصے کو بھی روشن رکھتے ہیں۔‘کْول سٹارز کے مدار میں ہماری زمین کی طرح کے بے شمار سیارے بھی ہیں جو بہت فاصلے پر ہیں۔ہمارے ستارے کی طرح کے اجزا یعنی اس کی سائز، کمیت، روشن طبق اور درجہ حرارت والے ستارے تاحیات اسی طرح رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی عمر کا اندازہ لگانا قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔
ستاروں کی گردش کی رفتار کی پیمائش کو پہلے پہل سنہ 1970 کی دہائی میں حل کے طور پر پیش کیاگیا جسے سنہ 2003 میں ’جائرو کرونولوجی‘ کہا گیا۔بوڑھے یا قدیم ستاروں کے نشان یا دھبے مدھم پڑ جاتے ہیں اس لیے ان کی پیمائش دقت طلب معاملہ ہے
ڈاکٹر میبم نے کہا: ’کْول سٹار ابتدا میں بہت تیز گردش کرتا اور کسی لٹو کی طرح رفتہ رفتہ اس کی رفتار کم ہوتی جاتی ہے اور کسی ستارے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن کسی ستارے کی گردش کو دیکھ پانا بہت مشکل امر ہے۔ ماہر فلکیات اس کے لیے سورج کے دھبے کا استعمال کرتے ہیں جب وہ سفر میں ہوتا ہے اور اس کی چمک میں صرف ایک فی صد کی کمی واقع ہوتی ہے۔‘بوڑھے تارے بطور خاص پیچیدہ مسائل والے ہوتے ہیں کیونکہ ان میں کم اور چھوٹے دھبے ہوتے ہیں۔اس دریافت کے لیے ڈاکٹر میبم کی ٹیم نے انتہائی حساس کیپلر سپیس دوربین سے لی جانے والی تصاویر کا استعمال کیا جو کہ 2009 سے سورج کا چکر لگا رہی ہے۔انھوں نے ڈھائی ارب سال قدیم ستاروں کے مخصوص جھرمٹ کے کم از کم 30 ستاروں کی گردش کو ناپنے میں کامیابی حاصل کی۔
ستاروں کی گردش کی رفتار سے اس کی عمر کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں،ماہر فلکیات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
لکڑی کا تختہ
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار



















































