جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ پشاور میں شہید ہر بچے کو نشان حیدر ملنا چاہیے ، رحمان ملک

datetime 25  دسمبر‬‮  2014 |

پشاور۔۔۔۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک کہتے ہیں کہ سانحہ پشاور میں شہید ہر بچے کو نشان حیدر ملنا چاہیے جنہوں نیجان کانذرانہ دے کر قوم کو متحد کردیا۔آرمی پبلک اسکول پشاور کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے کہا کہ پختونوں نے جتنی قربانیاں دیں اتنی اب تک کسی نے نہیں دیں، سانحہ پشاور دہشت گردی کا معمولی واقعہ نہیں ہے یہ پورے ملک کے والدین پر حملہ ہے،معصوم چھوٹے بچوں نے دہشت گردوں کا کیا بگاڑا تھا۔ اس المناک واقعے میں ملوث مجرم معافی کے قابل نہیں سانحہ پشاور میں شہید ہر بچے کو نشان حیدر ملنا چاہیے۔ معصوم بچوں نیجان کانذرانہ دے کر قوم کو متحد کردیا۔ ہر طالب دہشتگرد نہیں وہ صرف ان طالبان کو ظالمان کہتے ہیں جو خودکش حملے کرتے ہیں اور ہمارے بچوں کو مارتے ہیں۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قومی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں فوجی نہیں خصوصی عدالتوں کے قیام کی بات ہوئی ہے اور ان عدالتوں میں ایسے دہشتگردوں کا ٹرائل کیا جائے گا جو دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان عدالتوں کی سربراہی فوجی افسر کرے گا، اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ کوئی بھی قانون آئین کے خلاف نہیں بنے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اسے سیاسی دشمنی کے لئے استعمال نہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں لیکن ان کی بستیوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ افغان حکام نے ہمیشہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا انہوں نے جس دہشتگرد کے بارے میں کہا ہم نے اسے ان کے حوالے کیا، اب افغانستان کی باری ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردوں کے سرغنہ مولوی فضل اللہ اور پیر محمد سمیت دہشتگردی میں ملوث تمام افراد کو 24 گھنٹوں میں پاکستان کے حوالے کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…