جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی طالبعلم دنوں میں کروڑ پتی بن گیا یقین نہیں آتا تو کلک کریں

datetime 25  دسمبر‬‮  2014 |

لاہور ۔۔۔۔ پاکستانی نوجوان اپنے بے پناہ ٹیلنٹ سے آئے روز ایسے کارنامے سرانجام دے رہے ہیں کہ دنیا جس کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ شہر لاہور میں معروف تعلیمی ادارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم عزیر بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں کہ جنہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی کروڑوں روپے مالیت کی بین الاقوامی کمپنی قائم کر دی ہے عزیر نے ویب سائٹ ‘ٹیک جوس’کو حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ایم بی بی ایس میں داخلے سے پہلے ان کے پاس کچھ فارغ وقت تھا جسے وہ عموماً سو کر گزارتے تھے۔ ایک دن ان کی والدہ نے انہیں اپنے وقت کا مثبت استعمال کرنے کی تنبیہہ کی تو انہوں نے فری لانس کاروبار کیلئے مشہور ویب سائٹ elance پر تلاش شروع کی اور ترجمے کے کام کو اپنے لئے بہترین پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ مقابلہ بہت سخت تھا لیکن انہوں نے کم معاوضہ طلب کیا اور بہترین کوالٹی کا کام شروع کردیا۔ کچھ ہی عرصہ میں انہیں بہت زیادہ پراجیکٹ ملنے لگے لیکن انہوں نے کبھی بھی کوالٹی میں کمی نہ آنے دی۔ جب کام بہت زیادہ ملنے لگا تو انہوں نے دوست احباب کو شامل کر کے ایک کمپنی قائم کر لی جس کیلئے کام کرنے والے آج 30 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ ابھی ایم بی بی ایس کے چوتھے سال میں ہیں لیکن ان کی دولت پانچ کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محنت، ایمانداری اور صبر سے ہر منزل کا حصول ممکن ہے اور پاکستانی طالب علموں کو ان خوبیوں سے کام لیتے ہوئے فری لانسنگ پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…