جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لولے لنگڑے فیصلوں کے بجائے مضبوط اقدامات سے ہی قوم مطمئن ہوگی،وزیر اعظم

datetime 24  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔وزیر اعظم نواز شریف کا کہتے ہیں کہ لاتعداد چھوٹی چھوٹی تنظیموں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اس صورتحال میں لولے لنگڑے فیصلوں کے بجائے مضبوط اقدامات سے ہی قوم مطمئن ہوگی۔ وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس جاری ہے جس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے علاقہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک ہیں۔ اجلاس کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔
اجلاس کے آغاز پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی غیر معمولی صورت حال غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے، لاتعداد چھوٹی چھوٹی تنظیموں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔ پشاور کا واقعہ پوری دنیا کے لئے ایک المیہ ہے، کب تک یہ لوگ قوم کے بچوں، معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو مارتے رہیں گے۔ مجرموں کو سزا ملنے پر ہی قوم مطمئن ہوگی۔ ہم نے کمزور اقدامات اٹھائے تو قوم قبول نہیں کرے گی، پاکستان نے اس جنگ میں اب تک بھاری قیمت چکائی ہے، اس سے ہماری معیشت پر بھی کافی بوجھ پڑا ہے، دہشتگردی کینسر جیسی بیماری ہے جس کا علاج نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہمیں ان کے خلاف سخت فیصلہ کرنا ہوں گے جو پاکستان کو جڑ سے ختم کرنا چاہتے ہیں، جو قوم کے نونہالوں کو قتل کررہے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں رحم نہیں بلکہ پتھر ہیں، اس موقع پر لولے لنگڑے فیصلوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے پہلے ہم نے کبھی فیصلہ کن جنگ نہیں لڑی لیکن اب ہم نے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیاہے، اس سے پہلے ہم نے مذاکرات کے ذریعے بھی معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ضرب عضب کا فیصلہ ہوا اور اس سلسلے میں بھی پہلے مشاورت کی۔ اس آپریشن کی کارروائیاں انتہائی مثبت رہی ہیں۔ ضرب عضب ناصرف شمالی وزیرستان میں جاری ہے بلکہ اس سلسلے میں ہم افغان حکام سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک تمام جماعتوں کے سامنے ملک کی موجودہ صورتحال اور سانحہ پشاور کا المناک واقعہ ہے، خدانخواستہ اس قسم کے دوسرے واقعات بھی ہوسکتے ہیں اگر ہم نے اس وقت صحیح فیصلہ نہ کئے تو اس کا بوجھ ملک کی تمام سیاسی قیادت پرآئے گا۔ ہمیں اپنے خدشات کو مل کر ختم کرنا ہوگا۔ ایک ضرب عضب شمالی وزیرستان میں ہورہی ہے تو دوسری ضرب عضب ان عناصر کے خلاف بھی ہونی چاہیے جو ملک کے اندر بیٹھ کر ہی وطن عزیز کو غیر مستحکم کررہے ہیں اور دہشتگردوں کی سوچ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…