بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کریں گے ، خلیجی ممالک

datetime 22  دسمبر‬‮  2014 |

ابو ظہبی ۔۔۔۔ تیل سے مالا مال خلیجی ممالک نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کریں گے اور تیل کی گرتی قیمت کا ذمہ دار ان ملکوں کو ٹھہرایا ہے جو تیل کی پیداوار تو کرتے ہیں لیکن اوپیک کے ممبر نہیں۔سعودی عرب کے وزیر برائے پیٹرولیم علی النعیمی نے کہا ہے کہ ’غلط معلومات پھیلانے کے باعث تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔ابو ظہبی میں بات کرتے ہوئے سعودی وزیر نے اس تاثر کو رد کیا کہ سعودی عرب سیاسی مقاصد کے لیے تیل کی قیمتیں نیچے لا رہا ہے۔کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کی جائے گی۔علی النعیمی نے کہا ’وہ ممالک جو اوپیک کے ممبر نہیں ہیں وہ تیل کی پیداوار کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں۔ ہم نہیں کریں گے۔ خاص طور پر سعودی عرب نے کرے گا۔‘کویت کے وزیر برائے پیٹرولیم علی العمیر نے کہا کہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کو پیداوار کم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اسی لیے کوئی ہنگامی اجلاس طلب نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں پیداوار میں کمی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے دوسروں کو موقع دیا لیکن وہ بھی ایسا کرنے کو تیار نہیں تھے۔نومبر میں تیل برآمد کرنے والے ملکوں کے اجلاس میں پیداوار کو موجودہ سطح یعنی 30 ملین بیرل یومیہ پر برقرار رکھنے کا فیصلے کیا تھا۔اس فیصلے کے باعث تیل کی قیمتیں گری تھیں۔ماضی میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک سعودی عرب قیمتوں کو گرنے سے بچانے کے لیے پیداوار میں اضافہ یا کمی کیا کرتا تھا۔میں تیل کی گرتی قیمت سے خوش نہیں ہوں۔ تیل کی موجودہ قیمت کے باعث کسی بھی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو نقصان ہو رہا ہے لیکن اس سے عالمی معیشت کو فائدہ ہو رہا ہے۔تاہم اس بار سعودی عرب کی جانب سے ایسا قدم اٹھانے سے انکار سے یہ کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب امریکی شیل کو نقصان پہنچانے اور رس اور ایران کی آمدنی کو کم کرنے کے لیے سیاسی فیصلہ کر رہا ہے۔علی النعیمی نے اس بات سے انکار کیا کہ سعودی عرب کے اس فیصلے کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔’میں تیل کی گرتی قیمت سے خوش نہیں ہوں۔ تیل کی موجودہ قیمت کے باعث کسی بھی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو نقصان ہو رہا ہے لیکن اس سے عالمی معیشت کو فائدہ ہو رہا ہے۔‘
اوپیک کے سیکریٹری جنرل عبداللہ البدری نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کو بتایا کہ اگلے سال کے آخر تک تیل کی قیمتوں میں بہتری آئے گی۔
’ہمیں امید ہے کہ قیمتوں میں بہتری اگلے سال کے جون تک آئے گی۔ ہم کو ابھی تو نہیں معلوم لیکن ہمیں چھ ماہ بعد معلوم چلے گا کہ مارکیٹ کیا کرتی ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…