جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پشاورمیں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ماسٹر مائنڈ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

ڈیرہ اسماعیل خان: پشاور میں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے سفاک اور درندہ صفت طالبان کے ساتھی اور حملے کے ماسٹر مائنڈ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ فوجی آپریشن کے دوران ہماری مرنے والی عورتوں اور بچوں کا انتقام ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے پر جاری ہونے والی ویڈیو میں ایک شخص کوعمر منصور کے نام سے دکھایا گیا ہے اور ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ شخص پشاور میں آرمی اسکول پر حملے میں 132 معصوم بچوں سمیت 144 افراد کی شہادت کا ماسٹر مائنڈ ہے، ویڈیو میں سفاک اوردرندہ صفت شخص  منصور کو کہتے دکھایا گیا ہے کہ اگر ان کی عورتیں اور بچے مررہے   ہیں تو ان کے بچے کیسے بچ سکتے ہیں اور ہم اسی انداز میں  لڑکر معصوموں سے اس کا انتقام لیں گے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے برطانوی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر منصور ہی تھا اور وہ ملا فضل اللہ کا قریبی ساتھی  اور 3 بچوں کا باپ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ  منصور نے ہائی اسکول تک تعلیم اسلام آباد کے ایک اسکول میں حاصل کی اور پھر مدرسے میں داخلہ لے لیا، وہ کم عمری سے ہی لڑنے کا ماہر تھا اور اکثر دوسرے لڑکوں سے لڑتا تھا، طالبان میں شمولیت  سے قبل منصور نے کچھ عرصے مزدور کی حیثیت سے کراچی میں کام کیا۔ منصور عرف عام میں ناری یعنی ’’سلم‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور اسے والی بال کھیلنے کا شوق تھا جب کہ وہ حکومت سے بات چیت کا سخت مخالف تھا۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد عمر خراسانی نے برطانوی خبر رساں ادارے سے  بات کرتے ہوئے پشاور میں آرمی اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے  کہا تھا کہ  یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ون کا جواب ہے۔

Courtesy : Express News

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…