جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو تیل سستا ہونے کا فائدہ نہیں پہنچ سکا،کرائے بھی کم نہیں ہوئے

datetime 8  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ماہ میں پٹرول وڈیزل کی قیمت میں بالترتیب 24.34 روپے اور 13.30روپے کمی کی گئی تاہم عوام کواس غیرمعمولی کمی کاکوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے یکم نومبر کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پرنظر ثانی کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 14روپے 68 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 18پیسے کمی کی گئی، سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ کے نرخ ناموں پر نظرثانی کرتے ہوئے رکشا وٹیکسی کا کرایہ ایک روپے، ائیر کنڈیشن انٹرسٹی بسوں کا کرایہ 10پیسے فی کلومیٹراورعام بسوں کا کرایہ 7پیسے فی کلومیٹر کم کیا۔کراچی میں چلنے والی بسوں منی بسوں اور کوچزکے کرایوں میں بھی ایک روپے کی کمی کی گئی، ٹرانسپورٹرز بدستور پرانے کرایے وصول کرتے رہے، یکم دسمبر کو وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 9.66 روپے اور 7.12روپے کمی کا نوٹی فکیشن جاری کیا، سندھ حکومت نے اس موقع پر رکشا وٹیکسی کے نرخ ناموں میں ایک روپے جبکہ بسوں ایئرکنڈیشنڈ بسوں کے کرائے میں دس پیسے اور عام بسوں کے کرایے میں 5پیسے فی کلومیٹر کے حساب سے کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیاتاہم ٹرانسپورٹرزکی ہٹ دھرمی کے باعث اس پر عملدرا?مد نہیں ہوسکا۔
حکومت اس معاملے میں بے بس دکھائی دیتی ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باجود رکشا وٹیکسی کے کرایے بدستور ا?سمان سے باتیں کررہے ہیں، یکم دسمبر کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے مطابق رکشا کا کرایہ 10روپیہ کالی ٹیکسی کاکرایہ11 روپے فی کلومیٹر جبکہ پیلی ٹیکسی کا کرایہ 12روپے فی کلومیٹر مقرر کیاگیا مگر ڈرائیورز اب تک پرانے کرایے وصول کررہے ہیں۔
رکشا مالکان 5 کلومیٹر کا کرایہ 100روپے سے 120جبکہ ٹیکسی مالکان 200 سے ڈھائی سو روپے وصول کرتے ہیں ، پٹرول اورڈیزل کے نرخ کم ہونے سے ٹرانسپورٹرز کے وارے نیارے ہوگئے ہیں اوران کوہی فائدہ ہوا ہے،عوام کوریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت عملی اقدامات کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…