جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اب لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن ہو نگی

datetime 6  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔ایک نئی تحقیق کے مطابق لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں میں اتنی توانائی باقی ہوتی ہے کہ ان کی مدد سے کچی آبادیوں کے مکانات میں روشنی کی جا سکے۔کمپیوٹر بنانے والے امریکی ادارے آئی بی ایم کی جانب سے کروائی گئی تحقیق میں جب ان پرانی بیٹریوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے 70 فیصد میں اتنی طاقت تھی کہ وہ ایک ایل ای ڈی لائٹ کو ایک برس تک روزانہ چار گھنٹے روشن رکھ سکیں۔محققین کا کہنا ہے کہ ان بیٹریوں کا استعمال بجلی فراہم کرنے والے موجودہ متبادل سے سستا ہے وہیں اس سے ’ای ویسٹ‘ یا الیکٹرانک سامان کے فضلے کے مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔پرانی بیٹریوں سے توانائی کے حصول کا تجربہ رواس برس بھارتی شہر بنگلور میں کیا گیا ہے۔یہ بیٹریاں کچی بستی کے رہائشیوں کے علاوہ پھیری والوں اور خوانچہ فروشوں میں بھی مقبول ہوئیں۔اس سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جن گھروں تک بجلی نہیں پہنچ رہی ہے یا غریب افراد میں بجلی فراہم کرنے والا یہ پیک مقبول ہوگا۔انجینیئرنگ کے معروف امریکی ادارے ایم آئی ٹی کے ٹیکنالوجی ریویو کے مطابق بھارت میں آئی بی ایم کی ٹیم کے ذریعے پیش کردہ تصور پر اب مزید تبادلہ خیال کیا جائے گا۔آئی بی ایم کے مطابق ارجر نامی ایک کٹ سے سال بھر تک روزانہ چار گھنٹے ایک لیڈ بلب جلایا جا سکتا ہےآئی بی ایم ٹیم نے جو پیک بنایا ہے اسے انھوں نے ’ارجر‘ کا نام دیا ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس سے وہ ان 40 کروڑ افراد کی مدد کرسکیں گے جنھیں بھارت میں بجلی میسر نہیں۔
فی الحال اس کا متبادل شمسی توانائی ہے جو کہ زیادہ خرچیلا اور پیچیدگیوں بھرا ہے۔ارجر کو جس کی معیاد ایک سال ہوگی اگر وافر تعداد میں تیار کیا گیا تو اس کی قیمت صرف 600 روپے یا 10 امریکی ڈالر ہوگی۔
انھوں نے کہا: ’ارجر میں یہ صلاحیت ہے کہ اس الیکٹرانک کوڑے کچرے کو توانائی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے جس سے دونوں مسائل کا قابل عمل حل سامنے آتا ہے۔‘ٹیم کا کہنا ہے کہ جانچ میں اس کا نتیجہ مثبت آیا ہے اور اس کا استعمال کرنے والوں یہ مشورہ دیا ہے کہ اس میں ایسے تار استعمال کیے جائیں جسے چوہے نہ کاٹ سکیں تو بہتر ہوگا۔دنیا میں ای ویسٹ ایک بڑا مسئلہ ہے اور امریکہ میں ہردن تقریبا ڈیڑھ لاکھ کمپیوٹر پھینکے جاتے ہیں جو سالانہ تقریبا پانچ کروڑ بنتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…