جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک اچھی خبر، مگر کیا؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد( جذبہ رپورٹ) اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک اچھی خبر۔ پنجاب اسمبلی میں اوورسیز کمیشن کا قانون منظور کرلیا۔8اپریل کو پاکستان اوورسیز الائنس فورم یورپ اور پاکستان کمیونٹی ناروے کے زیر اہتمام رامادا ہوٹل اسلام آباد میں ایک کنونشن کا انعقاد ہوا تھا۔ جس میں 4وفاقی وزراء پرویز رشید‘ احسن اقبال‘ سردار محمد یوسف اور بلیغ الرحمن نے شرکت کی ۔ اس کنونشن میں سمندر پار پاکستانیوں کا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا۔ پنجاب حکومت متحرک ہوئی ۔ پنجاب حکومت نے29اپریل کو لاہور میں ایک کنونشن کا انعقاد کیا۔ جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے پانچ سو کے قریب سمندر پار پاکستانیوں کو اکٹھا کیا۔ وزیر اعلیٰ آفس میں ان کے اعزاز میں ایک لنچ اور گورنر ہاؤس میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ انہیں سرکاری پروٹوکول سے نوازا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ایک اوورسیز کمیشن کا اعلان کیااور 10نومبر کو اوورسیز کمیشن کے سلسلہ میں پنجاب اسمبلی نے قانون منظور کرلیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اس کے چیئرمین ہوں گے ۔ سمندر پار پاکستانیوں میں سے ایک وائس چیئرمین نامزد کیا جائے گا۔ جبکہ آئی جی پنجاب ‘ چیف سیکرٹری پنجاب‘ اس کمیشن کے ممبر ہوں گے ۔ یہ کمیشن سمندر پار پاکستانیوں کے تمام مسائل حل کروانے کا ذمہ دار ہوگا۔ سمندر پار پاکستانیوں کو کسی محکمہ سے کوئی شکایت ہو۔ چاہے ان کے جائیدادوں پر قبضہ کرنے جیسے مسائل ہوں۔ یہ کمیشن ان مسائل کو حل کروانے کا ذمہ دار ہوگا۔ پنجاب حکومت نے اس کمیشن کے سلسلہ میں باقاعدہ قانون سازی کرلی ہے ۔ آئندہ آنے والی حکومتیں بھی اس کمیشن کے اغراض ومقاصد کو تبدیل نہیں کرسکیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…