جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کپتان کو مشکل، سابق صدر پرویز مشرف بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑنے لگے

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی: سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ دھرنوں سے  ملک کو نقصان ہورہا ہے اور سب اپنی سیاست چمکا رہے ہیں لیکن ملک میں کچھ بھی ہو نظام کو خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔

کراچی میں یوتھ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہمارا وجود بھارت کے لیڈروں کو پسند نہیں تھا جس کی بنا پر کشمیر کا مسئلہ شروع ہوا، ہمارے وجود کو 1947 سے ہی خطرہ تھا جس کے باعث پہلے 30 سالوں میں ہی تین جنگیں لڑی گئیں جب کہ مغربی سرحد سے بھی 50 اور 60 کی دہائی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں  شروع ہوئیں جو اب بھی جاری ہیں، افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت کے باعث ہمیں اپنی فورسز بڑھانی پڑیں کیونکہ ہمارے  مفاد میں تھا کہ سوویت یونین کو افغانستان سےنکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں اپنی معیشت کو ٹھیک کرنا ہوگا اس کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرے گا لیکن ملک میں کسی بھی جمہوری حکومت نے معیشت کی بہتری  کے لیے کوئی کام نہیں کیا صرف فوجیوں نے ہی ملکی معیشت کے لیے کام کیا۔

سابق صدر نے کہا کہ بلوچستان میں مغربی سرحد پر شورش کوئی نئی بات نہیں جب کہ خیبرپختونخوا میں القاعدہ اور طالبان ہیں اور بلوچستان میں مذہبی و علیحدگی پسند گروپ، ہمیں سب سے پہلے مستحکم اور مضبوط پاکستان بنانا ہے جس کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، عالمی برادری خصوصاً مسلم ممالک میں پاکستان کا اہم کردار ہونا چاہئے، پاکستان کمزور ملک نہیں اسے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر دنیا میں مقام حاصل کرنا چاہئے ملکی مسائل کا حل مختصر مدت  نہیں بلکہ طویل مدتی پالیسیوں میں ہے اور کوئی بھی نظام چیک اینڈ بیلنس کے بغیر نہیں چل سکتا نہ ہی اس کے بغیر کوئی حکومت چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہے اور پاکستان کے پاس تمام صلاحیتیں ہیں اسے کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ہم آگے بڑھتی ہوئی قوم کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ امریکا اور مغربی ممالک نے تین بڑی غلطیاں کیں جس کے باعث خطہ اب تک عدم استحکام کا شکار ہے جس میں امریکا کی پہلی غلطی تھی کہ افغانستان میں موجود جنگجوؤں کو نہیں بسایا گیا جس کےباعث وہاں القاعدہ اور دوسرے جنگجو بنے، امریکا کی دوسری غلطی طالبان کو تسلیم نہ کرنا تھا جس پر نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا جب کہ اس کی تیسری غلطی افغانستان سے نکلنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…