جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں مسلمان رہنما نے حج سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |
نئی دہلی۔۔۔۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یا ایم آئی ایم کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ اسدد د ین اویسی نے حج پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سبسڈی ختم کرنے سے جو رقم ملے گی اس کو مسلمانوں کی تعلیم میں بہتری لانے پر خرچ کیا جائے۔
’حج سبسڈی ختم کر دیں اور مسلمان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خرچ کیجیے، میری لڑائی سماجی انصاف کی ہے۔‘بھارت کی حکومت نے 2009 میں ایک لاکھ 21 ہزار ہندوستانی حاجیوں پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ سبسڈی میں ایئر انڈیا کے کرائے میں رعایت اور سعودی عرب میں کھانے، رہنے اور سفر کرنے کے لیے مالی امداد شامل ہے۔اویسی نے کہا ’مسلمانوں کو حج کے لیے سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ان کی مدد کرنی ہے تو ان کی تعلیم اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد کرو۔‘حج سبسڈی ہندوستان کی آزادی سے پہلے سے مسلمانوں کو دی جا رہی ہے۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو کے دور میں 1959 میں حج ایکٹ کے تحت یہ سبسڈی جاری رکھی گئی۔کئی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس سبسڈی کو ختم کر دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے 2012 کے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ دس سالوں کے اندر اندر حج سبسڈی ختم کر دینی چاہیے۔اویسی نے کہا کہ وہ مسلمانوں کی سماجی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں کیونکہ انھیں اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔مسلمانوں کے ساتھ مبینہ ناانصافی پر اویسی کہتے ہیں ’بہت سے لوگ ہیں جو ہمارے لیڈر ہیں۔ نہرو سے لے کر مولانا ملائم تک۔ انھیں اپنا لیڈر مان کر ہمیں کیا ملا، ہمیں اپنے وطنِ عزیز میں کیا ملا؟ ترقی پذیر ہندوستان میں مسلمانوں کی امیدیں کہاں پوری ہو رہی ہیں؟‘

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…