جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا میں کھیلوں پر جوا کھیلنے کی اجازت دینے پر غور

datetime 1  دسمبر‬‮  2014 |

نیویارک ۔۔۔۔۔ امریکا نے کھیلوں پر جوا کھیلنے کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا، لاس ویگاس کی دیکھا دیکھی دوسری ریاستیں بھی قوانین میں تبدیلی کا جائزہ لے رہی ہیں، ہر سال ملک میں اسپورٹس پر 400 بلین ڈالر کا سٹہ کھیلا جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکا کی 50 میں سے 46 ریاستوں میں جگہ جگہ کیسینو پائے جاتے ہیں جہاں پر قانونی طور پر جوا کھیلا جاتا ہے لیکن کھیلوں پر جوا کھیلنے کی اجازت صرف ایک ریاست لاس ویگاس میں ہے باقی جگہوں پر یہ کام غیرقانونی انداز میں ہوتا ہے، لوگ کھیلوں پر مختلف غیرملکی ویب سائٹس یا پھر غیرقانونی بکیز کے توسط سے جوا کھیلتے ہیں، یہ معلوم ہونے کے بعد سب کچھ خطرناک ہے وہ یہ خطرہ مول لینے سے نہیں چوکتے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا میں ہر سال 400 بلین ڈالرز کا جواب کھیلا جاتا ہے۔امریکا میں میچ فکسنگ بھی کوئی نہیں بلکہ یہ صدیوں پرانی چیز ہے، 1919 میں سٹے بازوں نے پوری بیس بال ورلڈ سیریز ہی فکس کردی تھی۔یہ ’بلیک سوکس‘ اسکینڈل کے نام سے مشہورہوا جب شیکاگو وائٹ سوکس کے کھلاڑیوں نے میچ ہارنے کیلیے رشوت لی تھی۔ اب لاس ویگاس کی طرح دوسری ریاستیں بھی کھیلوں پر جوئے کو قانونی دائرہ کار میں لانے پر غور کررہی ہے۔اس حوالے سے سب سے بڑا مطالبہ نیوجرسی کی جانب سے سامنے ا?رہا ہے۔ دوسری جانب امریکن فٹبال (این ایف ایل)، بیس بال (ایم ایل بی)، ہاکی (این ایچ ایل) اور نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی قانون سازوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ دیگر ریاستوں میں بھی قانونی طور پر جوئے کی اجازت دینے کی راہ ہموار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…