بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

آپنے چیزیں تو چوری ہوتی دیکھی ہونگی، مگرآسٹریلیا میں پیش آیا 'میت' چوری ہونے کا انوکھا واقعہ!۔

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

سڈنی: ایک آسٹریلوی خاندان اُس وقت حیرت میں ڈوب گیا جب ان کے رشتے دار کی آخری رسومات کے دوران آنجہانی کے جسدِ خاکی کو ‘چرا’ لیا گیا۔

ہیلے ویسٹ اور ان کے شوہر ٹوبیاس رچرڈسن جمعرات کو سڈنی کے بلیو ماؤنٹین ویسٹ میں واقع ایک اسکول کی عمارت میں اپنے بہنوئی سیٹھ رچرڈسن کی آخری رسومات کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ اچانک ایک نامعلوم شخص جھاڑیوں سے کود کراندر آیا اورآنجہانی کی میت کو ٹرالی سمیت بھگا لے گیا۔

ہیلے ویسٹ نے اے بی سی ریڈیو کو بتایا کہ ‘ابھی ہم بات ہی کر رہے تھے اور سیٹھ رچرڈسن کی آخری رسومات کی تیاریاں ہو ہی رہی تھیں کہ یہ واقعہ پیش آیا’۔

‘ہم سب وہاں شاک میں کھڑے تھے کہ جنازے کو چرا لیا گیا ہے’۔

اس کے بعد ٹوبیاس نے اپنی کار میں چور کا تعاقب شروع کیا جبکہ ویسٹ نے پولیس کو فون کیا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق میت چرانے والے شخص نے اسکول کے گراؤنڈ میں ٹرالی کو دوڑانا شروع کردیا جبکہ رچرڈسن نے کار میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے بالآخر اس کا راستہ روکا اور پوچھا کہ ‘تم یہ کیا کر رہے ہو؟’

جس پر اس شخص نے نہایت تابعدرای اور معصومیت سے جواب دیا کہ ‘مجھے ہسپتال جانا ہے’۔

پولیس کے مطابق 49 سالہ مذکورہ شخص ڈیمینشیا کا مریض ہے اور جمعرات کی صبح ایک نرسنگ ہوم سےلاپتہ ہوگیا تھا۔

جسے پکڑ کر معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ویسٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے مزید کوئی پولیس کارروائی نہیں کی جائے گی’۔

تاہم انھوں نے آخری رسومات کی تیاریوں کو (جنھیں دوبارہ شروع کردیا گیا تھا ) دیکھتے ہوئے کہا ‘سیٹھ رچرڈسن (مرنے والا) بھی سوچ رہا ہوگا کہ یہ کتنا مزاحیہ واقعہ ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…