اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کے تحفظات، ٹرانسپورٹ اور توانائی کئی معاہدوں پر دستخط نہیں ہو سکے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔پاکستان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ جن میں کہا گیا تھا کہ سارک کانفرنس کے موقعے پر پاکستان کے تحفظات کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت دیگر معاہدوں پر دستخط نہیں ہو سکے۔یہ بات دفترخارجہ کی خاتون ترجمان محترمہ تسنیم اسلم نے آج جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے ہفتہ وار بریفنگ میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس سے قبل تین معاہدوں پر دستخطوں کے لیے رابطے جاری تھے لیکن بدقسمتی سے ان معاہدوں کو کانفرنس شروع ہونے سے پہلے حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی انھیں متعلقہ وزرا کے سامنے پیش کیا گیا، حالانکہ اس بارے میں پاکستان نے میزبان ملک نیپال کے متعلقہ سیکریٹیریٹ سے رابطہ بھی کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس آج بھی جاری ہے، یقیناً وفود کے درمیاں مختلف ایشوز پر بات ہوگی تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کس معاہدے پر دستخط ہوگا اور کس پر نہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے اور برابری کی بنیاد پر بہتر تعلقات کا خواہاں اور حامی ہے اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے امن چاہتا ہے تاکہ نہ صرف غربت کا خاتمہ ہو سکے بلکہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں واضح تبدیلی آ سکے۔
’اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں‘ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈیا سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے اور برابری کی بنیاد پر بہتر تعلقات کا خواہاں اور حامی ہے اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے امن چاہتا ہے تاکہ نہ صرف غربت کا خاتمہ ہو سکے بلکہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں واضح تبدیلی آ سکے۔ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کو سارک کانفرنس میں واضح بیان دیا تھا کہ ہمیں اسلحے کی دوڑ کی بجائے عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی پر توجہ دینی چاہے۔پاک ایران گیس پائپ لائن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیاں ایٹمی معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور امکان ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی مسئلے کے مثبت حل پر متفق ہو جائیں گے جس کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن پر عمل درآمد یقینی ہو جائے گا۔پاکستان کے قبائلی علاقے میں گذشتہ روز ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب پر ترجمان نے کہا کہ یہ کوئی نیا حملہ نہیں ہے جبکہ پاکستان نے پہلے ہی اس مسئلے کو مختلف بین الاقوامی اور متعلقہ فورموں پر اٹھایا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر نہ صرف آگہی پیدا ہو چکی ہے بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی کئی بار اس کی واضح مخالفت کی ہے۔تسنیم اسلم نے اس بات کی بھی تردید کی کہ سارک کانفرنس میں پاکستان تنہا رہ گیا ہے اور کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے سارک میں شامل چھ ممالک کے سربراہوں سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…