بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے تحفظات، ٹرانسپورٹ اور توانائی کئی معاہدوں پر دستخط نہیں ہو سکے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔پاکستان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ جن میں کہا گیا تھا کہ سارک کانفرنس کے موقعے پر پاکستان کے تحفظات کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت دیگر معاہدوں پر دستخط نہیں ہو سکے۔یہ بات دفترخارجہ کی خاتون ترجمان محترمہ تسنیم اسلم نے آج جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے ہفتہ وار بریفنگ میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس سے قبل تین معاہدوں پر دستخطوں کے لیے رابطے جاری تھے لیکن بدقسمتی سے ان معاہدوں کو کانفرنس شروع ہونے سے پہلے حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی انھیں متعلقہ وزرا کے سامنے پیش کیا گیا، حالانکہ اس بارے میں پاکستان نے میزبان ملک نیپال کے متعلقہ سیکریٹیریٹ سے رابطہ بھی کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس آج بھی جاری ہے، یقیناً وفود کے درمیاں مختلف ایشوز پر بات ہوگی تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کس معاہدے پر دستخط ہوگا اور کس پر نہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے اور برابری کی بنیاد پر بہتر تعلقات کا خواہاں اور حامی ہے اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے امن چاہتا ہے تاکہ نہ صرف غربت کا خاتمہ ہو سکے بلکہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں واضح تبدیلی آ سکے۔
’اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں‘ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈیا سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے اور برابری کی بنیاد پر بہتر تعلقات کا خواہاں اور حامی ہے اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے امن چاہتا ہے تاکہ نہ صرف غربت کا خاتمہ ہو سکے بلکہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں واضح تبدیلی آ سکے۔ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کو سارک کانفرنس میں واضح بیان دیا تھا کہ ہمیں اسلحے کی دوڑ کی بجائے عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی پر توجہ دینی چاہے۔پاک ایران گیس پائپ لائن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیاں ایٹمی معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور امکان ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی مسئلے کے مثبت حل پر متفق ہو جائیں گے جس کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن پر عمل درآمد یقینی ہو جائے گا۔پاکستان کے قبائلی علاقے میں گذشتہ روز ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب پر ترجمان نے کہا کہ یہ کوئی نیا حملہ نہیں ہے جبکہ پاکستان نے پہلے ہی اس مسئلے کو مختلف بین الاقوامی اور متعلقہ فورموں پر اٹھایا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر نہ صرف آگہی پیدا ہو چکی ہے بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی کئی بار اس کی واضح مخالفت کی ہے۔تسنیم اسلم نے اس بات کی بھی تردید کی کہ سارک کانفرنس میں پاکستان تنہا رہ گیا ہے اور کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے سارک میں شامل چھ ممالک کے سربراہوں سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…