بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

میرا اُس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں۔۔۔۔۔ کراچی میں ہوا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی: کراچی پولیس نے بدھ کو ایک گھر سے مدرسے کی 33لڑکیوں کو برآمد کر لیا ہے جنہیں لین دین کے تنازع پر حبس بے جا میں رکھا گیا تھا۔

کراچی کے علاقے لیاقت آباد سی ون ایریا میں بدھ کو پولیس نے علاقہ مکیوں کی شکایت پر ایک گھر پر چھاپہ مار کر 26 کمسن بچیاں برآمد کر لیں۔

علاوہ ازیں معلمہ کی نشاندہی پر ایک گھر سے مزید 7 بچیاں بھی برامد کی گئیں

پولیس کے مطابق بچیاں گرومندر کے قریب واقع مدرسے کی طالبات ہیں اور انہیں لین کے تنازع پر ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا گیا۔

اس موقع پر بچیوں نے بتایا کہ مدرسے کی استانی نے قرض کے مبینہ تنازع پر انہیں حبس بے جا میں رکھا ہوا تھا جبکہ بچیاں اردو بولنا بھی نہیں جانتیں۔

مقروض خاتون کا کہنا ہے کہ معمولی رقم کے لین دین پر مدرسے کی معلمہ نے بچیوں کی کفالت ہمارے ذمے لگا دی۔

بچیوں کو قرض کے عوض مقروض کے گھر چھوڑنے والی مدرسے کی معلمہ حمیدہ بیگم نے تھانے پہنچ کر اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں کو قانونی طریقے سے باجوڑ سے کراچی لایا گیا تاہم اصل حقیقت کا اندازہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہو گا۔

سندھ میں ترقی نسواں کی وزیر روبینہ قائم خانی لیاقت آباد سے بازیاب بچیوں سے ملاقات کی اور بچیوں کی کفالت کا اعلان کردیا۔

گورنر سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لے کر بچیوں کو بحفاظت والدین تک پہنچانے کی یقین دہانی کرادی۔

اس حوالے سے معروف عالم دین مفتی نعیم نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کردیا۔

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے بھی مدرسے کی بچیوں کو دربدر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…