بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

میچ فکسنگ، آئی سی سی نے بھی دانش کنیریا کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لاہور: آئی سی سی نے بھی دانش کنیریا کو ٹکا سا جواب دیتے ہوئے نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی۔
یوں سابق اسپنر کی تاحیات پابندی ختم کرانے کی ا خری کوشش بھی ناکام ہوگئی، لیگ اسپنر کا کہنا ہے کہ میرے کیس میں دوہرا معیار سامنے ا گیا، فکسنگ کا اعتراف کرنیوالوں کی بحالی کیلیے کوشش ہو رہی ہے،مجھ پر تو صرف دوسروں کی حوصلہ افزائی کا الزام تھا جس کے ٹھوس شواہد بھی موجود نہیں۔تفصیلات کے مطابق دانش کنیریا نے غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تاحیات پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کیلیے اپنا کیس ا ئی سی سی کو بھجوایا تھا، میرا موقف تھا کہ سب سے پہلے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ انگلش اور پاکستانی بورڈ نے انصاف کے تقاضے پورے کیے ہیں یا نہیں،ان کا جوابی خط ا یا کہ مجھ پر پابندی ای سی بی کا داخلی معاملہ ہے جس میں مداخلت نہیں کرسکتے، حیران کن بات ہے کہ ا ئی سی سی ایک طرف تو میرے کیس کو ڈومیسٹک مسئلہ قرار دیتی ہے، دوسری طرف تمام کرکٹ بورڈز پر پابندی کا اطلاق کرنے پر زور بھی ڈالا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مجھ پر الزام تھا کہ دوسرے کھلاڑیوں کو اسپاٹ فکسنگ پر اکسایا تاہم اس کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا، عجیب بات ہے کہ پی سی بی بحالی کیلیے محمد عامر کے کیس کی پیروی کررہا ہے جنھوں نے اسپاٹ فکسنگ کا برملا اعتراف کرلیا تھا جبکہ مجھ پر کرکٹ کے دروازے بند ہیں، یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے، دانش کنیریا نے کہا کہ اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ مجھ پرجس بھارتی بکی سے روابط کا الزام عائد کیا جاتا ہے اس کو پی سی بی کے چند عہدیداروں نے ہی متعارف کرایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…