منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جی 20 کا ایبولا ختم کرنے کا عزم

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

برسبن۔۔۔۔آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے اختتامی کلمات سے برزبین میں جاری دو روزہ جی 20 کا سربراہی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا جس میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے معیشت میں ترقی کا عہد کیا۔ٹونی ایبٹ نے کہا کہ اس عہد کی پابندی کی گئی تو عالمی معیشت میں آئندہ پانچ برسوں میں2.1 فی صد ترقی ہو گی جو کہ ہدف سے زیادہ ہے۔ولادی میر پوتن جی 20 سربراہی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے
اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتن جی 20 سربراہی اجلاس میں باضابطہ اعلامیے کے جاری کیے جانے سے پہلے ہی روانہ ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ روس کا سفر طویل ہے اور وہ کچھ نیند کرنا چاہتے ہیں۔
سنیچر کو کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر، امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یوکرین کے سلسلے میں روس پر سخت تنقید کی تھی تاہم روسی صدر نے اس کانفرنس کو ’تعمیری اور مفید‘ کہا ہے۔سربراہی اجلاس کا میزبان ہونے کے ناطے آسٹریلیا نے اجلاس کا فوکس معاشی موضوعات پررکھنے کی کوشش کی جو کہ اس اجلاس کا تھیم تھا۔جی 20 میں شامل ہونے والے سربراہان مملکت کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کو ختم کرنے کے لیے ’جتنا کر سکتے ہیں کریں گے‘اس کے ساتھ ہی ماحولیات کی تبدیلی اور یوکرین کے تصادم پر بھی خاطر خواہ توجہ دی گئی۔امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے ان کے خیال میں یوکرین کو غیر مستحکم کیے جانے کی کوشش کا اکٹھے جواب دینے کے سلسلے میں یورپی رہمناؤں سے ملاقات کی۔
صدر اوباما نے کہا کہ صدر پوتن ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو بھاری اسلحہ فراہم کر رہے ہیں‘ اور منسک معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ روس کی ’معاشی تنہائی‘ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسٹر پوتن اپنا راستہ نہیں بدلتے۔اپنی تقریر میں آسٹریلوی وزیر اعظم ایبٹ نے کہا کہ معاشی اصلاحات سے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے۔انھوں نے عالمی انسانی قوت میں خواتین کی شمولیت میں اضافے کی بات کہی اور کثیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس نہ ادا کرنے پر بھی بات کی۔امریکہ اور یورپی رہنماؤں کے دباؤ میں آ کر اجلاس کے اخیر میں جاری اعلامیہ میں ماحولیاتی تبدیلی پر بھی مضبوط اور موثر اقدام کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔روسی صدر کو یورکرین پر سخت تنقید کا سامنا رہا اور وہ قبل از وقت اپنے ملک کے لیے روانہ ہو گئے۔اس سے قبل اس سربراہی کانفرنس میں ماحولیات کی تبدیلی کو شامل نہ کرنے پر ٹونی ایبٹ کی تنقید پر گئی تھی۔دوسری جانب امریکی صدر نے جاپان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ساؤتھ چائنا سی میں بحری تنازعات کے پرامن حل کی اپیل کی ہے۔انھوں نے سنیچر کو چین کا نام لیے بغیر کوئینزلینڈ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب میں کہا تھا کہ ایشیا کی سکیورٹی کا انحصار بڑے ممالک کی جانب سے چھوٹے ممالک کو ہراساں کرنے پر نہیں بلکہ باہمی اتحاد اور بین الاقوامی قوانین پر ہونا چاہیے۔دریں اثنا جی 20 میں شامل ہونے والے سربراہان مملکت نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کو ختم کرنے کے لیے ’جتنا کر سکتے ہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…