اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کی بیٹری فیل ہو گئی

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

واشنگٹن۔۔۔۔زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور واقع پی 67 نامی دمدار ستارے پر اتارے جانے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کی بیٹری ختم ہوگئی ہے اور وہ اب سٹینڈ بائی حالت میں چلاگیا ہے۔تاہم اس نے اپنی بیٹری کے خاتمے سے قبل مزید معلومات زمین پر بھیجی ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس مختصر روبوٹ سے جس کارکردگی کی امید تھی، وہ اپنی ذخیرہ شدہ توانائی کے خاتمے سے قبل بھیج چکا ہے۔فیلے اس وقت دمدار ستارے کی سطح پر ایک چٹان کے سائے تلے موجود ہے اور اس وجہ سے اسے سورج کی پوری روشنی نہیں مل پا رہی۔شمسی توانائی نہ ملنے کی وجہ سے یہ روبوٹ اپنے پینلز کے ذریعے بیٹری مکمل طور پر چارج کرنے میں ناکام رہا ہے۔سنیچر کو ’فیلے‘ کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے، ’میں اپنے نئے گھر یعنی 67 پی ستارے کے بارے میں آپ کو جلد ہی اور معلومات دوں گا۔‘تاہم یورپی خلائی ایجنسی کو خدشہ ہے کہ اس روبوٹ کا زمین سے رابطہ ٹوٹ سکتا ہے اور وہ آخری مرتبہ زمین سے رابطہ کر چکا ہے۔یورپی خلائی انجینیئرز نے فیلے کا زمین سے رابطہ ممکن بنانے کے لیے کافی کوششیں کیں لیکن ناکام رہے۔فیلے بدھ کو دمدار ستارے کی سطح پر اترا تھا اور انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی خلائی جہاز نے کسی ستارے کی سطح پر قدم رکھا ہے۔فیلے سے رابطے کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق شام تین بجے رکھا گیا جب روبوٹ کو ستارے تک پہنچانے کے بعد اس کے گرد گردش کرنے والا مصنوعی سیارہ روزیٹا ستارے کے افق پر نظر آنا تھا۔تاہم دن کے 12 گھنٹے میں سے صرف ڈیڑھ گھنٹے سورج کی روشنی ملنے کی وجہ سے ’فیلے‘ کی بیٹری اتنی چارج نہیں ہو سکے گی کہ وہ زمین تک رابطہ کر سکے۔انجینئرز نے رابطہ ممکن بنانے کے لیے کافی کوششیں کی اور اس کے لیے فیلے کو چار سینٹی میٹر تک اٹھا کر اسے 35 فیصد تک گھمانا بھی شامل تھا تاکہ شمسی توانائی کے پینلز کو سورج کی زیادہ روشنی حاصل ہو سکے۔خیال رہے کہ فیلے کو دمدار ستارے پر قدم جمانے کے لیے دو بار کوشش کرنا پڑی تھی کیونکہ پہلی کوشش کے دوران یہ دمدار ستارے کی سطح کو چھونے کے بعد اچھل کر دوبارہ خلا میں 11 کلومیٹر تک چلا گیا تھا۔
دوسری کوشش میں فیلے اپنے ہدف سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر اترا جہاں سورج کی روشنی کم پڑتی ہے جس کی وجہ سے اسے شمسی پینلز کے ذریعے بیٹری مکمل طور پر چارج کرنے میں مشکل کا سامنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…