منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیم میں واپسی کے لئے پرفارمنس پر توجہ ہے،محمد عامر

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لاہور۔۔۔۔۔ آئی سی سی کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے نوجوان فاسٹ بالر محمد عامر کا کہنا ہے کہ ٹیم میں واپسی کے لئے دوسروں کے بجائے اپنی پرفارمنس پر توجہ ہے۔ ایک قومی اخبار سے گفتگو میں محمد عامر کا کہنا تھا کہ ٹیم میں واپسی کے لئے سب سے پہلے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اس کے بعد ماں باپ اور دوست احباب کی دعائیں اور پھر نجم سیٹھی اور شہریار خان نے واپسی کے لئے بہت کوششیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں واپسی کے لئے دوسروں سے مقابلے کے بجائے میں خود اپنے آپ سے مقابلہ کرنے پر یقین رکھتا ہوں، جب 2009 میں ٹیم میں آیا تھا تو اس وقت بھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر آگے آیا تھا اور اب بھی اسی طرح آگے آؤں گا، ہر کسی کو اپنی پرفارمنس سے ٹیم میں مقام ملتا ہے، جو بھی اچھا کھیلے گا اسے جگہ ملے گی۔محمد عامر نے کہا کہ مشکل وقت میں بہت سے کھلاڑیوں نے ساتھ دیا اور بہت سے کھلاڑیوں نے نہیں بھی دیا لیکن سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ ہر کسی کر اچھا اور برا وقت تو آتا ہے۔ فٹنس کامیابی کی کنجی ہے اور ایک کھلاڑی کے لئے فٹ ہونا بہت ضروری ہے اور مجھے بھی پتہ ہے کہ فٹنس کے لئے کیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیم کی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ گرانٹ فلاور کے آنے سے بلے بازوں کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے جس کا فائدہ ہمیں آنے والے ورلڈ کپ میں ہو گا، اگر بیٹسمین کسی ٹیم کے خلاف 600 رنز بنا لیتے ہیں تو مخالف ٹیم پر ویسے ہی پریشر آجاتا ہے اور پھر بالرز بغیر کسی دباؤ کے بالنگ کراتے ہیں۔واضح ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کے بعد فاسٹ بالر محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی راہیں ہموار ہو گئی ہیں۔ محمد عامر کو 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں 5 سال کی سزا سنائی تھی جب کہ اس وقت قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ کو 10 سال اور محمد آصف کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…