منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے رشوت دینے کے الزامات پر برہم

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

سڈنی۔۔۔۔ آسٹریلیا نے ورلڈ کپ میزبانی کیلیے رشوت دینے کے الزامات پر برہمی ظاہر کی ہے، فیفا تحقیقاتی رپورٹ میں آسٹریلیا پر2022 ورلڈ کپ کیلیے ووٹس خریدنے کی کوشش اور پھر اسے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق فٹبال فیڈر یشن آ سٹریلیا کے چیئرمین فرینک لووے نے فیفا کی اس رپورٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے2022 ورلڈ کپ بڈنگ کے دوران ووٹس کیلیے مبینہ طور پر رشوت کی پیشکش کی تھی، فیڈریشن کا اسرار ہے کہ اس نے بڈنگ کی مہم میں شفاف طریقے سے حصہ لیا۔ ا سٹریلوی فٹبال باڈی نے فیفا کی ایتھکس کمیٹی کی جانب سے ناکام بڈ کیلیے غیر موزوں اقدامات کے تاثر کو غلط قرار دیا، ا فیشل نے کہا کہ اسے اس عمل سے مایوسی ہوئی تھی۔
ایف ایف اے چیئرمین فرینک لووے نے کہاکہ ہماری ا رگنائزیشن نے قوانین کے مطابق مسابقتی بڈ میں حصہ لیا، وفاقی حکومت اور دیگر خودمختار اداروں نے اس کی نگرانی کی۔ انھوں نے کہاکہ میں نے اپنی بڈ سے متعلق تمام اداروں کو بتا دیا تھا کہ ہم ایک شفاف مہم چلائیں گے جس کا ہر موقع پر اظہار کیا گیا۔ دوسری طرف فیفا کی رپورٹ میں ہے کہ افریقہ میں ترقیاتی منصوبوں کیلیے مختص 40 ملین ڈالر کی رقم کو ا سٹریلیا نے بڈ اور فیفا ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان سے تعلقات بہتر بنانے کیلیے استعمال کیا۔فیفا نے کنفیڈریشن ا ف نارتھ، سینٹرل امریکن اور کیریبیئن ایسوسی ایشن فٹبال کو بھی بعض ادائیگیوں کا الزام لگایا۔ یاد رہے کہ فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی نے بے ضابطگیوں کے وسیع الزامات کے باوجود قطر اور روس کو کرپشن سے بری قرار دینے کے ساتھ ٹورنامنٹس کیلیے دوبارہ ووٹنگ کو بھی مسترد کردیا تھا۔ ایف ایف اے چیف کا کہنا ہے کہ ا?سٹریلیا نے سابق یو ایس فیڈرل پراسیکیوٹر مائیکل گارشیا کی تحقیق میں مکمل تعاون کر کے بڈنگ عمل میں شفافیت کا ثبوت پیش کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…