بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اوباما نے امیگریشن نظام میں واضح تبدیلی کا فیصلہ کر لیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

واشنگٹن۔۔۔۔امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کے امیگریشن نظام میں واضح تبدیلی لانے کا فیصلہ کر لیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر اوباما بعض امریکی شہریوں کے والدین کو ملک بدر ہونے سے بچانے کے پروگرام کی مدت میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امیگریشن کے نظام میں اصلاحات کرنے سے مجموعی طور پر امریکہ میں بغیر قانونی دستاویزات کے رہائش پذیر 50 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اوباما اس منصوبے میں توسیع کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے نابالغ افراد کو ملک بدر کرنے سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں ان بچوں کے والدین کو بھی شامل کئے جانے کا منصوبہ ہے جو کہ امریکی شہری یا ان قانونی طور پر امریکی رہائشی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ملک بدری کی وجہ سے خاندانوں کو منقسم ہونے سے بچانا ہے۔ تجویز کردہ پالیسی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون کتنے عرصے سے امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر انتطامیہ منصوبے کو 10 سال سے امریکہ میں رہائش پذیر افراد تک محدود کرتی ہے تو اس صورت میں 25 لاکھ افراد کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ حزب اختلاف کی رپبلکن پارٹی نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدام صدر اوباما کے اختیارات سے باہر ہونے چاہئیں۔ سینیٹر جیف سیزنز نے کہا کہ مجوزہ اقدامات سے ملک کی عملداری کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ایوان نمائندگان کے سپیکر اور رپبلکن جماعت کے رہنما جان بوہنیر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر صدر اوباما نے یکطرفہ اقدام اٹھایا تو اس صورت میں امیگریشن اصلاحات کو کانگریس کے اندر طے کرنے کا امکان ختم ہو جائے گا۔ اپوزیشن کے علاوہ صدر اوباما کو اپنی جماعت کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے سینئر سینیٹر ہیری ریڈ نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ 11 دسمبر کو کانگریس سے حکومتی بجٹ کی منظوری کے بعد ہی وہ یہ قدم اٹھائیں۔ اس سے پہلے صدر براک اوباما نے جون میں وعدہ کیا تھا کہ امیگریشن قوانین میں اصلاحات کے سلسلے میں اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کریں گے لیکن انھوں نے ستمبر میں قوانین کی حمایت کا ارادہ وسط مدتی انتخابات تک ترک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…