ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسامہ کاسامنا ہو نے پر گولیاں چلانے میں دیر نہ کی،رابرٹ او نیل

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نیو یارک۔۔۔..ایبٹ ا باد کے کمپاو ء نڈ میں اسامہ کے ا خری لمحات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے ا ی ہیں۔ امریکی نیوی سیل ٹیم کے رکن رابرٹ او نیل کا کہناہے کہ جوں ہی اس کا القاعدہ کے سربراہ سے سامنا ہوا اس نے گولیاں چلانے میں دیر نہ کی،جس کے بعد اسامہ بمشکل چند لمحے ہی زندہ رہا۔ اپنی شناخت ظاہر کرنے والا رابرٹ او نیل اس خفیہ ترین نیوی سیل ٹیم کا حصہ تھا جو ایبٹ ا باد میں اسامہ کے کمپاو نڈ میں داخل ہوئیں۔ رابرٹ او نیل کا دعویٰ ہے کہ بن لادن سے اسی کا سامنا ہوا اور اس نے چہرے پر تین گولیاں ماریں۔ واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے رابرٹ او نیل بتاتا ہے کہ جوں ہی وہ دائیں جانب مڑا اس کے سامنے ایک شخص اپنی بیوی پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔یہ اسامہ بن لادن تھا جس کا چہرہ اسے ذہن نشین تھا۔ رابرٹ نے اسے پہنچانتے ہی گولیاں چلادیں اور اسامہ بستر کے دائیں جانب گر گیا۔ رابرٹ کہتا ہے کہ اسامہ کینزدیک کھڑے وہ اس کی ا خری سانس سن رہا تھا اور وہ سو فی صد یقین سے کہہ سکتاہے کہ وہ ہی وہ شخص ہے جس نے اسامامہ کو ا خری بار زندہ دیکھا، رابرٹ او نیل کا کہناہے کہ وہ اج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ یہ اس کی زندگی کا بہترین کارنامہ تھا یا بدترین عمل۔ امریکی ٹی وی پررابرٹ او نیل کے متنازع انٹرویو پر نیوی سیل ٹیم کے دیگر ارکان اور اعلیٰ عسکری حکام شدید برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…