منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شوگرکے مریضوں کیلیے خوشخبری ،خودکار انسولین پمپ تیارکرلیا گیا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔ماہرین طب نے تحقیق کے بعد خودکار انسولین پمپ تیارکرلیا ہے جو انسانی جسم میں انسولین کم ہونے کی صورت اور ضرورت کے مطابق انسولین فراہم کرے گا۔خودکار پمپ مصنوعی لبلبے کے طور پر کام کرے گا جوخون میں شوگر کے تناسب کی جانچ کرسکے گا، یہ بات سرسید اسپتال کے پروفیسر آف میڈیسن پروفیسر زمان شیخ نے ذیابیطس کے عالمی دن پر بات چیت کرتے ہوئے بتائی انھوں نے کہا کہ شعبہ طب میں خود کار انسولین پمپ کی تیاری ایک انقلاب ہے اس پمپ کی تیاری پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کیلیے بہت بڑی خوشخبری ہے انھوں نے بتایا کہ خودکار پمپ جلد ہی پاکستان میں بھی متعارف کرادیا جائے گا جس کے بعد ذیابیطس کے مریضوں کے علاج میں آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔خود کار پمپ (ڈیوائس) کو مریض کے پیٹ پر لگادیاجائے گا اس میں 2 باریک سوئیاں ہوں گی جو پیٹ میں داخل کی جائیں گی ان میں سے ایک سوئی24 گھنٹے انسانی جسم کے خون میں شوگر کی جانچ کرے گی، جسم میں انسولین کی کمی پر دوسری سوئی حسب ضرورت جسم کو انسولین فراہم کرے گی اس پمپ کے استعمال سے کسی نقصان کا احتمال نہیں، امریکا میں اس پمپ کے علاوہ انسولین انہیلر بھی استعمال کیا جارہا ہے جس سے مریض حسب ضرورت انجکشن کی بجائے انسولین لے سکتے ہیں، پاکستان میں ذیابیطس کی وجہ سے سالانہ 88 ہزار اموات رپورٹ ہورہی ہیں ان میں 52 ہزار خواتین اور35 ہزار مرد شامل ہیں۔ملک میں2 کروڑ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ دنیا بھر میں 28کروڑ 50 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں، ذیابیطس کے مرض میں لاپروائی کی وجہ سے مریضوں کو پیچیدگیوں کا سامنا ہے جس میں فالج کا حملہ ، امراض قلب، ریٹنا ( آنکھوں کے پردے) اور گردوں کا متاثر ہونا شامل ہے،ذیابیطس کے مرض میں پاکستان دنیا کا ساتواں ملک ہے جہاں شوگر کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں شوگر کے مرض سے خواتین کی شرح موت زیادہ ہے، بچوں میں موٹاپا سنگین مسئلہ بن رہا ہے، موٹاپا بھی ذیابیطس کے مرض کی علامت ہے بچوں کو جنک فوڈز اور سافٹ ڈرنکس پلانا خطرناک ہے،غیر متوازن غذا کھانے، فاسٹ فوڈ اور زیادہ مقدار میں میٹھا کھانا اس مرض کی بنیادی وجوہات ہیں، مرغن غذائیں، تیل اور چکنائی بھی اس مرض کا سبب ہے شہری خود کو بسیاری خوری سے بچائیں، شہری طرززندگی تبدیل کرکے کئی امراض پر قابو پاسکتے ہیں خواتین و حضرات اور بچوں کو بھی چہل قدمی کی عادت اپنانی چاہیے ، یومیہ چہل قدمی اور ورزش کی عادت کو معمول بناکر شوگر پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…