جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

تھر میں بھوک سے خودکشیاں بڑھ گئیں

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2014
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تھر میں خوراک کی کمی کے باعث خواتین میں خون کی کمی عام ہے۔میاں بیوی اور آٹھ بیٹوں پر مشتمل اس گھرانے کے پاس چھ بھیڑیں، دو بکریاں اور اونٹوں کی ایک جوڑی باقی ہے جن کو وہ درختوں سے پتے اتار کر کھلاتے ہیں۔چمو میگھواڑ کے مطابق یہاں بھوک کا راج ہے اس قدر کہ جانور بھی بھوکوں مر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد جو دوسرے بچے بیراجی علاقوں میں گئے تھے وہ بھی واپس آگئے ہیں۔صحرائے تھر میں رواں سال خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔غیر سرکاری ادارے ایسوسی ایشن فار واٹر اینڈ اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رینو ایبل انرجی یعنی اویئر کے ڈائریکٹر علی اکبر راہموں کا کہنا ہے کہ صورتحال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2012 میں 24 افراد نے خودکشی کی تھی اور رواں سال کے دس ماہ میں 41 افراد اپنی جان لے چکے ہیں۔خودکشی کرنے والوں میں 90 فیصد ہندو ہیں، جن میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے جس وجہ سے قحط سالی ان کے لیے خوفناک نتائج لاتی ہے۔ ان نتائج سے بچنے کے لیے یہ لوگ مال مویشیوں سمیت بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرتے ہیں۔
اگرو میگھواڑ ننگر پارکر سے بس کا پانچ گھنٹے سفر طے کر کے عمرکوٹ میں ماہر نفیساتی امراض کے پاس پہنچے تھے۔کرائے، ڈاکٹر کے فیس اور ادویات خریدنے کے لیے انھیں تین میں سے ایک گائے سات ہزار میں فروخت کرنا پڑی۔اگرو میگھواڑ کے چار بچے ہیں، ان میں سے صرف ایک میٹرک پاس ہے اور وہ بھی بیروزگار ہے۔ بات کرتے وقت ان کا دائیں بازو مسلسل کانپتا رہا۔وہ بتاتے ہیں کہ بارشوں کے بعد کچھ کام دھندا ہوتا تھا، لیکن ان دنوں فارغ بیٹھے ہیں، چند مویشی ہیں جن پر گزر بسر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر لکیش کھتری تھر اور آس پاس کے علاقے میں واحد ماہر نفسیات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگرو میگھواڑ ڈپریشن کا شکار ہیں: ’قحط سالی کے نتیجے میں معاشی دباؤ نے لوگوں پر ذہنی دباؤ بڑھا دیا جس وجہ سے ڈپریشن کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس وجہ سے خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔‘

’قحط سالی کے نتیجے میں معاشی دباؤ نے لوگوں پر ذہنی دباؤ بڑھا دیا ہے‘ڈاکٹر لکیش کے مطابق قحط سالی کی وجہ سے لوگوں کے پیسے نہیں ہیں، خوراک کی کمی بہت ہے اس سے ذہنی نشو و نما بھی متاثر ہوتی ہے۔
’متاثرین جببیراجی علاقوں میں جاتے ہیں تو وہاں دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے پاس اتنا کچھ ہے اور ان کے پاس کھانے تک نہیں۔ اس سے ان میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ انھی احساسات میں کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس زندگی سے بہتر ہے کہ اس کو ختم کر دیا جائے۔‘تھر میں خوراک کی کمی کے باعث خواتین میں خون کی کمی عام ہے، جس کے نتیجے میں بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں۔ہر دوسرے روز یہاں سے بچوں کی ہلاکت کی خبریں آ رہی ہیں لیکن حکومت سندھ کا موقف ہے کہ کسی بھی بچے کی ہلاکت بھوک سے ہوئی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…