جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

اگر عمران خان گڑگڑا کر آنکھوں میں آنسو لا کر معافی مانگ لے تو مل جائے گی؟ صحافی محمد حنیف کا سوال

datetime 20  اگست‬‮  2025 |

اسلام آبا د (نیوز ڈیسک) معروف صحافی اور کالم نگار محمد حنیف نے بی بی سی اردو کے لیے اپنے کالم میں سابق وزیراعظم عمران خان سے معافی کے مطالبے پر سوالات اٹھائے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ اگر عمران خان واقعی گڑگڑا کر اور آنسو بہا کر معافی مانگ بھی لیں تو کیا انہیں معافی مل جائے گی؟ اور اگر مل گئی تو کیا وہ دل سے ہوگی؟ محمد حنیف نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ کیا نواز شریف یا آصف زرداری نے کبھی سچے دل سے معافی مانگ کر اقتدار حاصل کیا ہے؟کالم میں انہوں نے کہا کہ جیل میں قید کوئی بھی شخص اگر حکمرانِ وقت سے معافی مانگتا ہے تو عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ مصلحت کے تحت کی گئی ہے۔ اسی طرح اگر حکمران معاف بھی کر دے تو یہ تاثر رہتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی سیاسی فائدہ یا کوئی ذاتی مفاد ہے۔

اس طرح نہ معافی مانگنے والے کے دل سے بوجھ اترتا ہے اور نہ معاف کرنے والے کے دل سے شکوہ ختم ہوتا ہے، بلکہ ایک نئی گرہ پڑ جاتی ہے۔محمد حنیف نے مزید کہا کہ ہم بچوں کو بھی سکھاتے ہیں کہ “سوری بولو” اور کسی رشتے یا تعلق میں دراڑ آئے تو “سوری” کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ “آئی ایم سوری” کا اکثر اوقات کوئی حقیقی مطلب نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق معافی کے اس فلسفے کو انہوں نے زندگی میں سب سے زیادہ ٹیکسی ڈرائیوروں سے سیکھا، ایڈیٹروں سے کم۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان واقعی معافی مانگیں گے تو انہیں پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ کس کس بات پر معافی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق خان کے خلاف فہرست اتنی طویل ہو سکتی ہے کہ اسے تیار کرنے میں مہینوں لگ جائیں۔

اگر وہ صرف یہ کہیں کہ “اقتدار میں آنے کے لیے کندھوں کا سہارا لیا اور پھر انہی کے خلاف جانے کی کوشش کی” تو یہ بھی ایک نئی بحث چھیڑ دے گا، کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے مبینہ جرم میں دوسروں کو شریک بھی قرار دے رہے ہوں گے۔کالم کے آخر میں انہوں نے کہا کہ معافی کے لیے فرشتوں اور شیطان کی کہانیوں کو دلیل کے طور پر پیش کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ زمینی حقائق پر ہی رہ کر سوچا جائے، کیونکہ زمینی غلطیوں کی معافی زمین پر ہی ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…