پشاور (نیوز ڈیسک): امریکی محکمہ خارجہ نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قونصل خانہ افغان سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے امریکا کے اہم سفارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ محکمہ خارجہ نے رواں ہفتے اس فیصلے سے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کی بندش سے سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی اور اس اقدام سے پاکستان میں امریکا کے مفادات یا سفارتی سرگرمیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔رپورٹس کے مطابق 2001 میں افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں سے پہلے، دوران اور بعد میں پشاور کا یہ قونصل خانہ آپریشنل اور لاجسٹک سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔امریکی حکام کے مطابق اس قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر غور تھا۔ یہ اقدام سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس منصوبے کا حصہ بتایا جا رہا ہے جس کے تحت وفاقی اداروں کے حجم کو کم کیا جا رہا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا ایران سے جاری کشیدگی یا جنگی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی تنظیم نو کے عمل کے دوران گزشتہ برس ہزاروں سفارتی اہلکاروں کو فارغ کیا جا چکا ہے، جبکہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے بیشتر ملازمین کو بھی ملازمتوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پشاور کا قونصل خانہ بیرون ملک پہلا ایسا سفارتی مرکز ہوگا جسے اس تنظیم نو کے نتیجے میں مکمل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس قونصل خانے میں 18 امریکی سفارت کار اور سرکاری اہلکار جبکہ تقریباً 89 مقامی ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل پر اندازاً 3 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس رقم کا بڑا حصہ عارضی دفاتر کے طور پر استعمال ہونے والے بکتر بند ٹریلرز کی منتقلی پر صرف کیا جائے گا، جبکہ باقی اخراجات گاڑیوں، الیکٹرانک آلات، ٹیلی کمیونیکیشن سامان اور دفتری اشیا کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی و لاہور کے قونصل خانوں منتقل کرنے پر آئیں گے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق پشاور قونصل خانے کی بندش کے بعد امریکی شہریوں اور دیگر قونصلر خدمات سے متعلق امور اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانہ انجام دے گا۔



















































