منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاک فوج کا ایک اور بڑا کارنامہ ‘ انڈیا کو بھی کھل کر اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا

datetime 29  اکتوبر‬‮  2014 |

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی قسم کی دہشتگردی کے لئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ آپریشن ’’ ضرب عضب ’’ اور آپریشن ’’ خیبرون ’’ پلان کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں کسی بھی تفریق کے بغیر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے، آپریشن ’’ ضرب عضب’’ شروع ہونے سے پہلے افغانستان کو پیغام دیا تھا کہ دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن کیا جائے گا جس میں تعاون درکارہے تاہم سرحد پار سے کوئی تعاون نہیں کیا گیا جبکہ افغان صوبیکنڑ اور نورستان میں فضل اللہ اور دیگر نے کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرایجنسی میں ‘‘خیبرون ’’ کے نام سے آپریشن جاری ہے جہاں انٹیلی جنس اطلاعات پردہشتگردوں کیٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ آپریشن کے دوران 100 سے زائد دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور کارروائی میں 40 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران ہمارے 100 سے زائد جوان شہید ہوچکے ہیں جبکہ اس دوران 1100 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور ’’ خیبر ون ’’ آپریشن کے دوران 44 دہشتگرد مارے گئے جبکہ مجموعی طور پر دہشتگردوں کے قبضے سے 12 ہزار سے زائد ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں جن میں 6 ہزار سے زائد رائفلز اور 2 ہزار سے زائد اے کے 47 پکڑی گئی ہیں، اسی طرح کارروائی کے دوران 132.5 ٹن دھماکا خیز مواد اور 12 لاکھ راؤنڈزپکڑے گئے ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا پاک فوج نے سوات میں دہشتگردوں کا خاتمہ کیا اور وہاں ایک مرتبہ پھر امن قائم ہوچکا ہے جبکہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے ولا گروپ بھی پکڑا گیا، فوج مل کر تمام دہشتگردوں کو ختم کردے گی جس کے لئے مقامی افراد کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے فوج سے تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی علاقوں میں بھارتی مداخلت ہورہی ہے جس کا بھرپور جواب دیا جارہا ہے اور جب بھی بھارتی جارحیت ہوگی اس کا بھرپور جواب دیں گے، پاک افغان سرحد پر لگائے گئے موبائل سگنلز ٹاور ہماری سیکیورٹی کے لئے خطرناک ہیں اور جب تک افغانستان کی حدود میں لگے ٹاور سے پاکستانی حدود سگنلز آتے ہیں اور جب تک افغان حکومت اسے ہٹا نہیں دیتی اس وقت تک خطرہ برقرار رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…