جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ڈرائیونگ لائسنس کیلیے 13 سرکاری ہسپتالوں میں مفت میڈیکل سرٹیفکیٹ کی سہولت

datetime 25  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند شہریوں کے لیے اہم سہولت متعارف کرا دی گئی،

اب سرکاری ہسپتالوں سے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ مفت حاصل کیا جا سکے گا۔سی ٹی او لاہور کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کے لیے مفت طبی معائنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے شہر کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں 13 خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔مفت میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے مراکز میں ڈی ایچ کیو میاں میر ہسپتال، ڈی ایچ کیو مزنگ، جنرل ہسپتال غازی آباد، تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال سبزہ زار، گورنمنٹ ہسپتال سمن آباد، گورنمنٹ جنرل ہسپتال قلعہ گجر سنگھ، گورنمنٹ جنرل ہسپتال شاہدرہ اور تحصیل ہیڈکوارٹرز بلال گنج شامل ہیں۔اسی طرح گورنمنٹ ہسپتال سوڈیوال، تحصیل ہیڈکوارٹرز کاہنہ، تحصیل ہیڈکوارٹر رائے ونڈ اور گورنمنٹ آئی اینڈ جنرل ہسپتال سوامی نگر شالیمار میں بھی شہریوں کو یہ سہولت دستیاب ہوگی۔سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ کمرشل ڈرائیونگ لائسنس کے امیدواروں کے علاوہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈرائیونگ لائسنس مینجمنٹ سسٹم (DLIMS) کو محکمہ صحت کے آن لائن نظام سے منسلک کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

نئے نظام کے تحت میڈیکل فٹنس کی رپورٹ براہِ راست محکمہ صحت کے پورٹل پر اپ لوڈ کی جائے گی، جس سے سرٹیفکیٹ کی آن لائن تصدیق ممکن ہو سکے گی۔ ٹریفک پولیس اور محکمہ صحت کے درمیان ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ سے تصدیقی عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق آن لائن میڈیکل ویری فکیشن کے ذریعے نظام میں شفافیت اور جوابدہی بہتر ہوگی، جبکہ جعلی دستاویزات اور بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو آسان، جدید اور سہل سرکاری خدمات فراہم کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…